اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ہم فلسطین۔ اسرائیل دو حکومتی حل ماڈل کے اطلاق کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اقوام متحدہ جنرل سیکرٹری کے نائب ترجمان فرحان حق نے امریکہ کے شہر نیو یارک میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ دو حکومتی حل کا اُصول، اقوام متحدہ حکام کے فلسطینی اور اسرائیلی فریقین کے ساتھ معمول کے اجلاسوں میں دوہرائے گئے، بیانات سے عبارت نہیں ہے۔
حق نے کہا ہے کہ "دو حکومتی حل کوئی گیان منتر نہیں ہے۔ یہ ایک پالیسی ہے جس پر ہم کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم، فیلڈ میں اپنے خصوصی کوآرڈینیٹر ‘ٹور وینسلینڈ’ سمیت مذاکراتی فریقین اور ڈپلومیٹوں کے ساتھ اس پالیسی پر کاربند ہیں اور اسے آگے بڑھانا جاری رکھیں گے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "یہ درست ہے کہ وقتاً فوقتاً مختلف سمجھوتوں اور زیرِ عمل مختلف پالیسیوں کی پیش رفت میں دشواری پیش آتی رہتی ہے لیکن مشکلات کی وجہ سے ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے”۔
واضح رہے کہ "مشرق وسطیٰ امن مرحلہ” 1991 میں اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں منعقدہ مشرق وسطیٰ کانفرنس کے ساتھ شروع ہوا۔ اس مرحلے کی بنیاد، "امن کے لئے زمین” سلوگن کے ساتھ عرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ، دو حکومتی حل پر قائم کی گئی۔
دو حکومتی حل، 1967 میں اسرائیل کی طرف سے قبضے میں لی گئی فلسطینی زمین کے ساتھ ساتھ دریائے اردن کے مغربی کنارے، القدس اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی حکومت کے قیام کا احاطہ کرتا ہے۔
فلسطین۔ اسرائیل مذاکرات، اسرائیل کی طرف سے پرانے قیدیوں کی رہائی اور یہودی رہائشی بستیوں کی تعمیر بند کرنے سے انکار سمیت متعدد وجوہات کی بنا پر 2014 سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔
