وزیراعظم شہباز شریف نے ادویات کی کمی کا تو نوٹس لے لیا لیکن وہ ڈالر کی اونچی اڑان، مہنگائی اور
ملک میں جاری سیاسی بے یقینی کا نوٹس کب لیں گے۔
عوام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور ان کی جماعت کے وزرا سب ہی نے پچھلے ایک ہفتہ سے لاہور میں پڑاؤ
ڈالا ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں ناکامی کا غم گو کہ حمزہ شہباز کو دوبارہ وزیراعلی بنا
کے اب خوشی میں بدل چکا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ملک کے حقیقی مسائل کی جانب بھی توجہ دے لیں۔
عوام کہتے ہیں سیاستدانوں کی کھینچا تانی کی وجہ سے ملک غیریقینی صورت حال سے گزر رہا ہے اور
جس کی جو مرضی ہے وہ کر رہا ہے کوئی پوچھنے وال نہیں.
لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے ستائے عوام نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ خدارا ڈالر کی اونچی اڑان کو
کنٹرول کرنے میں کردار ادا کریں۔ وزیرخزانہ اس ساری صورت حال میں کہیں دیکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
ڈالر 230 سے بھی زائد پر پہنچ چکا ہےلوگوں میں سیاسی یقینی کی وجہ سے پاکستان سے جانے کا رجحان
پھر سے پروان چڑھنے لگا ہے۔
ڈالر سے ہی ہر چیز منسلک ہے اگر صورت حال یہی رہی تو ڈالر 250 کو بھی عبور کرتے ہوئے ٹرپل سنچری
کر لے گا۔
عوام نے وزیراعظم سے پرزور اپیل کی کہ وہ پاکستانی روپے کی بے توقیری اور بے قدری کا نوٹس لیں اور
اپنے وزیر خزانہ کو پابند کریں وہ اسے 200 سے نیچے لانے کے لیے حکمت عملی بنائیں۔
