English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شیعہ کشی میں کسی تنظیم یا کسی مسلک کا ہاتھ نہیں تھا، لشکروں کے ذریعے ٹارگٹ کیا گیا، ساجد نقوی

القمر

پاکستان کے ہم مالک و وارث ہیں, محرم نئے اندازمیں منائیں گے ، قائد ملت جعفریہ کا خطاب

اسلام آباد (شفقنا نیوز) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقو ی کہتے ہیں عزارداری کوئی مسلک یا مکتب رکاوٹ نہیں، ہم اتحادکے بانی ہیں، سب ہمیں مانتے ہیں، تکفیریوں کے سوا شیعوں کوکسی سے کوئی پرابلم نہیں، شیعہ کشی میں لشکر طیبہ کا کوئی ہاتھ نہیں تھا ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کی قیادت نے بھی اس معاملے پر اظہار برات کیا۔ جناح کنونشن اسلام آبادمیں وہ شیعہ علماءکونسل پاکستان کے زیراہتمام علماءو ذاکرین کانفرنس سے مرکزی خطاب کررہے تھے۔

شفقنا نیوز کے مطابق علامہ سید ساجد علی نقوی کا علماءو ذاکرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا پہلا حدف تھا کہ قانون سازی کے ذریعے تشیع کو تحفظ فراہم کیاجائے اور پاکستان بننے کے بعد ہی یہ کاوشیں شروع ہوچکی تھیںؒ، مفتی جعفر حسین کے زمانے میں دفعہ 227 کے ذریعے ایک توجیہ کا اضافہ ہوا اور پھر قومی جدوجہد کے اہداف میں ہم نے مل کر وسعت پیدا کی، میری ذمہ داری بنتی ہے کہ میں کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی مذمت کروں، میری ذمہ داری بنتی ہے کہ میں فلسطینیوں کے حقوق کی بات کروں اور ان کی جدوجہد کی تائیدکروں،ہر سال ہم قدس کے موقع پر اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

امریکی صدر کے حالیہ دورے پر بھی ہم نے کہا تھا کہ لاشوں پرکھڑے ہوکر امن کی بات تمہیں زیب نہیں دیتی ۔ 1940 میں مینار پاکستان کے مقام پر دو قراردادیں منظورکی گئیں، ایک قرارداد پاکستان تھی اوراس کے ساتھ دوسری فلسطین کے بارے میں تھی اوراس سے اس مسئلے کی اہمیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے، قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو بڑی دلچسپی تھی اس اہم ترین امہ کے مسائل کے حوالے سے اور یہ بنیادی نظریہ تھا۔

میری ذمہ داری بنتی ہے کہ افغانستان کے حوالے سے میں بات کروں، افغانستان کی صورتحال کو سنبھلنا اور سدھرناچاہیے، کیوںبنی یہ صورتحال اوریہاں تک یہ معاملہ کیسے پہنچا ،میں ذرے ذرے اور لمحے لمحے سے واقف ہوں مگر میں اس قوم کی بات کرتا ہوں اور اس کے ساتھ وہاں جو حکمران ہیں میں انکی بھی بات کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ وہ لوگ آئے تھے ہمارے پاس۔ سمجھ لیجیے اس بات کو کہ ہم بین الاقوامی ذمہ دار لوگ ہیں اورہماری ذمہ داریاں ہیں۔

انہوں نے دوران خطاب انکشاف کیاکہ پاکستان میںاہل تشیع کو القاعدہ، ٹی ٹی پی یا لشکر طیبہ نے نشانہ نہیں بنایا بلکہ کچھ لشکروں نے تشیع کو ٹارگٹ کیا اور شیعہ کشی کی ۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ ہمیں اسامہ بن لادن نے نہیں مارا، ہمیں حکیم اللہ محسودنے نہیںمارا، ہمیں لشکر طیبہ اور اس کے سربراہ حافظ سعید احمد نے بھی نشانہ نہیںبنایا۔ میری ان سب سے بات ہوئی ہے۔

میں نے پیغام بھیجا اسامہ بن لادن کو جب تشیع کو ٹارگٹ کیا جارہاتھاتو اس کا جواب تھاکہ یہ ہمارا موضوع ہی نہیں ہے اگر کوئی کچھ کررہے ہیں تو وہ کوئی اورلوگ ہیں ان کا ہم سے تعلق نہیں ہے۔ میں بڑاوفدبھیجا حکیم اللہ محسودکے پاس بھیجا، بہت بڑا وفد ان کے پاس گیاجب اہل تشیع کو ٹارگٹ کیاجارہا تھا تو انہوں نے بھی صاف انکار کردیا اور کہا کہ ہمارا یہ مشن نہیں ہے البتہ اگر کچھ لوگ اگر ہماری صفوں میںگھسے ہیں تو یہ الگ بات ہے، میری براہ راست بات حافظ سعید سے ہوئی تو انہوں نے کہاکہ ہم اپنی کاذ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے شیعہ سنی مسئلے کواٹھاکر۔

میں گواہی دیتاہوں کہ لشکرطیبہ کے کسی آدمی کا شیعہ کشی کے اندر ہاتھ نہیں تھا۔ میںمسلکوں کی بھی نفی کرتا ہوں ، کوئی مسلک عزاداری میں رکاوٹ نہیں ہے۔ تفریق کیاکریں۔ یہ ایف آئی آرز مسالک یامکاتب کی طرف سے نہیں کسی اورطرف سے ہیں ۔سب جانتے ہیں حکمران بے بس ہوتے ہیں آج سے 15سال پہلے عزاداری کے خلاف ایک ٹاسک فورس بنائی گئی تھی اورمیں نے اسے حذف کرایا اور ختم کرایا اور اس وقت پیغام دیا تھا کہ کہاں لے جارہے ہو شیعوں کو، رک جاﺅیہیں پے۔

اگر میں کسی اور طرف جاﺅنگا تو بات کہیں اورطرف نکل جائےگی۔ پاکستان جن مقاصد کےلئے بنایا گیاان اہداف سے روگردانی کرلی گئی جب پاکستان بنایاگیا تھا تو اس وقت شیعوں کو تحفظ دیاگیا تھا کہ آپ کے تمام حقوق محفوظ رہیں گے اگرچہ آئینی لحاظ سے شیعہ پاکستان میںمحفوظ ہیں کسی کے تحفظ کی ضرورت نہیں تھی لیکن بانیان پاکستان نے تشیع کو تحفظ فراہم کیاتھا۔ مجھے کسی کے تحفظ کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ شیعہ پاکستان کے شہری ہیں، وارث ہیں، مالک ہیں، حصہ دار ہیںؒ ، کیونکہ ہم نے یہاں ہی رہنا ہے۔

خاندانی لحاظ سے ہمیں 800 سال ہوچکے ہیں اس سرزمین پر آئے ہوئے اور800سال سے اس سرزمین پرعزداری ہورہی ہے۔ ہم کسی بھی ہنگامہ خیزی کے قائل نہیں ہیں۔ محرم آرہاہے اور استقبال محرم کےلئے یہ کانفرنس بلائی گئی ہے۔میں نے جیسے پہلے تذکرہ کیاکہ اہل تشیع کو کسی تنظیم یامسلک نہیںلشکرو ں کے ذریعے شیعہ کشی کی گئی۔

انہوں نے کسی دہشت گرد تنظیم کانام لئے بغیر کہاکہ کسی مسلک نے تشیع کوٹارگٹ نہیں کیا، اسلئے اتحاد وحدت ہے ہماری تمام مسالک کےساتھ، سب کو میں مانتا ہوں اور سب ہمیں مانتے ہیں، کہیں کونے کدھرے میں کوئی بات آئے تو اسکی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، میں سمجھتاہوں کہ آئندہ آنیوالامحرم خصوصاً وہ ایس او پیزجومحرم کے حوالے سے بنائی گئی تھی ہر چیز میں تبدیلی آرہی ہے مگر مجالس و جلوسوں پر اس ایس او پیز کے ذریعے کاٹے جانیوالی ایف آئی آرز کی پالیسی میں کیوں کوئی تبدیلی نہیں آئی، یہ ایس او پیز اب آپ کو بدلنا ہوگی کیونکہ یہ تشیع کے وجود کی نفی کرتی ہے، یہ ایف آئی آرز ہم نہیںمانتے، آئندہ محرم میں اب ایف آئی آرز والا سلسلہ نہ کیجیے گا ہم محاذآرائی نہیں کرناچاہتے۔

اتمام حجت ہم ایک عرصہ سے کرتے چلے آرہے ہیں لیکن یہ چیزیں ناقابل برداشت ہیں۔ ہم اپنے حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کرینگے، عوام کی مشکلات مہنگائی، بے روزگاری، بد امنی، ناانصافی میں لوگ مبتلا ہیںؒ ،کسی بھی خلاف قانون، خلاف آئین اقدام کو تسلیم نہیںکرینگے بارہامتوجہ کرتا آیاہوں اور یہ چیزیں زیادہ دیر تک نہیں چل سکتیں، ہم ایک مدت سے انہیں برداشت کرتے چلے آرہے ہیں، ہم نے بڑے اچھے انداز میں، معقول انداز میں، مہذب اندازمیں کیونکہ ہم تہذیب یافتہ لوگ اور تہذیب کے ورثاءکے ماننے والے ہیں مہذب انداز میں پیغام پہنچایاہے۔

ہم نے بہت صبر کیا ہے مگر اس کے باوجود ہماری تذلیل کی جارہی ہے، ہمار ے خلاف خلاف آئین اقدام اٹھائے گئے، سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کئے گئے، ہم مسلمہ جماعت ہیں، اس ملک کی تاریخ میںدوریفرنس دائرہوئے ایک خان ولی خان کےخلاف اور دوسرا ہمارے خلاف ، ہمارے خلاف ریفرنس کو سپریم کورٹ نے بوگس قراردیا تھا۔ اس محرم میں ہم ایک نئے اندازمیں منظم ہوکر بڑھیںؒ گے ہم بغیر کسی محاذآرائی کے،بغیر کسی لڑائی کے آگے بڑھیں گے۔

ہمارا اس ملک میںؒ تکفیریوں کے سوا کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ،آپس میں (شیعوں کےساتھ)تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، ہم نے وحدت کا ایسا فارمولادیاہے کہ میں کسی کوموضوع بحث بناتاہوں نہ کسی پر تنقید کرتا ہوں نہ کسی کی توہین،نہ کسی کاتذکرہ کرتا ہوں نہ تبصرہ کرتاہوں، یہ فارمولا ہے اتحاد کا۔ باقی لوگوں کے اپنے اپنے سلسلے ہیں وہ بنارہے ہیں تو ہمیںاس سے کوئی غرض نہیں ہے نہ کوئی مشکل یامسئلہ ہے، قیادت کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

قیادت کی بات آپ کرتے ہیں آپ کا شکریہ مگر آپ بات کریںاپنے مشن کی، عوام کے حقوق کی بات کریں جو ہماری ذمہ داری ہے ، بات کریں اس مشن کی جو ہم لے کر چلے ہیں جس کا ایک منظرآج کنونشن سنٹر میں ہے اور دوسراگزشتہ روز جامع الکوثر میں تھا۔ علماءو ذاکرین کانفرنس میںنجف اشرف سے آیت اللہ بشیرحسین نجفی کے نمائندہ نے خصوصی طور پرشرکت کی اورقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی بھرپور تائیدکی۔

کانفرنس سے آیت اللہ علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، علامہ افتخار حسین نقوی، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ عارف حسین واحدی، علامہ محمد رمضان توقیر، علامہ شیخ شفاءنجفی، علامہ جمعہ اسدی، علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ سید ناظر عباس تقوی، شیخ مرزا علی، مفتی کفایت، زاہد علی آخونزادہ، مولانا باقر زیدی اور مولانا نثار احمد قلندری ،سربراہ منہاج الحسین علامہ محمد حسین اکبر ، مولانا باقر علی حیدری،مولانا سید باقر زیدی ، علامہ محمد کرار، علامہ سید اظہر عبا س شیرازی ، سید محمد نقی رضوی ،سجادہ نشین پیر سید نجف علی شاہ بلوٹ شریف، سمیت دیگر علماء کرام و ذاکرین عظام نے خطاب کیا ۔ کانفرنس میںملک بھر سے کثیر تعداد میںعلماءکرام شریک ہوئے اور عزاداری ، مہنگائی،بے امنی کے خاتمے سمیت مختلف عوامی ایشوز پر 14قراردادیں منظورکی گئیں۔

انتظار حسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے