صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا کہنا ہے کہ اناج کی ترسیل روس اور یوکیرین دونوں کے مفاد میں ہے۔ دو ہفتوں کے اندر پہلے بحری جہاز کی روانگی متوقع ہے تا ہم اس چیز کا دارو مدار ممالک کے کس حد تک تیار ہونے سے ہے۔
بلومبرگ ٹی وی چینل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے قالن نے گزشتہ ہفتے استنبول میں یوکیرینی اناج کی ترسیل کے لیے کیے گئے معاہدے پر اپنے جائزے پیش کیے۔
ترجمان نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے سے معاہدہ طے پایا ہے ، جس نہ صرف روس اور یوکیرین کی بلکہ دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے، جس سے فائر بندی اسیروں کے مبادلے اور امن معاہدے کے قیام کی راہ ہموار ہو گی۔
استنبول میں قائم ہونے والے مرکز میں دنیا بھر سے نمائندے شامل ہوں گے، جب ہفتہ کو حملہ ہوا تو ہمیں اس پر بے چینی محسوس ہوئی اور فوری طور پر روسی اور یوکرینی فریقین سے اس پر بات چیت کی گئی۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ توقع یہ ہے کہ تمام فریق معاہدے کی شرائط پر پوری طرح عمل کریں گے ، قالن نے بتایا کہ”اس معاہدے کی مدت 4 ماہ ہے۔ لیکن اگر دونوں فریقین راضی ہوں تو اس میں خود ساختہ طور پر توسیع ممکن ہے۔
"یہاں، دونوں ممالک کے ہاتھ میں اناج کی مقدار سال کے آخر تک 40 سے 50 ملین ٹن کے درمیان ہونے کی امید ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یوکرین میں 20-25 ملین ٹن اور روس میں 25-30 ملین ٹن اناج کی مصنوعات دستیاب ہیں۔ زیادہ تر اناج مال بردار بحری جہازوں پر لدا ہوا ہے۔
جب بحری جہاز اودیسا کی بندرگاہوں سے نکلے گا، تو وہ یوکرینیوں کے کنٹرول میں ان کے طے کردہ راستے پر بحیرہ اسود کی طرف روانہ ہوگا۔ مرکز کو ہر مرحلے پر آگاہ کیا جائے گا۔ ترکی کے پانیوں میں داخل ہونے کے بعد جہازوں کی نگرانی جاری رہے گی۔ جب وہ استنبول آئے گا تو ایک خاص مقام پر اس کا معائنہ کیا جائے گا۔ یہی طریقہ کار باہر جانے والے جہازوں کے لیے بھی لاگو کیا جائے گا۔
