English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئس لینڈ کے کوہ پیما کی فیملی کا پاک فوج سے اظہار تشکر

القمر

گذشتہ سردیوں میں کے ٹو چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران اپنے دیگر کوپیماء ساتھیوں پاکستان کے علی سدپارہ اور ر جوان پابلوکے ہمراہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے آئس لینڈ کے کوہ پیماء جان سنوری کی فیملی نے ریسکیو آپریشن پرپاکستانی فوج ، حکومت اورقوم کا شکریہ اداکیا ہے۔ ان کہناہے کہ فروری 2021 ءمیں رونما ہونے والے واقعات ہمارے لیے بطور خاندان اور علی سدپارہ اور جوان پابلو کے خاندانوں کے لیےبہت مشکل تھے۔جان کے کھونے کے بعد سے میں اور بچے جس دکھ کے سفر پر تھے اس کی وضاحت کرنا آسان نہیں ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جان سنوری کی بہنوںکیرن،کرسٹین ، بیٹی ہللا کیرن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان سنوری کی اہلیہ لینا موٹ کا کہنا تھا کہ جان اسنوری اور پاکستان کے کوہ پیمائی کے ہیرو اور لیجنڈ مسٹر علی سدپارہ کے درمیان دوستی اتنی مخلص اور مضبوط تھی کہ ہم نے بطور خاندان پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ذاتی طور پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر ہمارا ساتھ دیا۔ پاکستان کے حصوں کا دورہ کرناجا ن سنوری کو اتنا ہی پیار اتھا جتنا کہ آئس لینڈ میں اپنے خاص مقامات سے۔ ہم نے یہاں اس امید پر سفر کیا کہ اگر جان کو K2 کی چوٹی کی طرف جانے والے راستے سے اس کے دوست اور کوہ پیمائی کے ساتھی علی اور ان کے کوہ پیمائی ساتھی جوآن پابلو کے قریب ایک آرام گاہ پر لے جانے کا موقع ملے گا۔ اس طرح کی کارروائی میں حصہ لینے والوں کی حفاظت ہمیشہ ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ تاہم آج ہمیں خبر ملی کہ منگما جی کی قیادت میں چار کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم K2 کی چوٹی پر دو گھنٹے گزارنے کے بعد اپنی کوشش میں ناکام رہی ہے۔ ہمارے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر پہاڑ پر کچھ نئی برف پڑنے سے برفانی تودے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہم بطور خاندان اس بات کو اجاگر کرنا چاہیں گے کہ جان کو صرف اس انداز میں منتقل کیا جانا چاہیے جو اس میں شامل افراد اور پہاڑ پر دیگر کوہ پیماؤں کے لیے محفوظ ہو۔کو ہ پیماؤں کے طور پر ان کی زندگیاں اور کارنامے منفرد اور ایسے ہیں کہ دونوں قومیں، پاکستان اور آئس لینڈ دونوں ممالک کی کوہ پیمائی اور سرخیل تاریخ کے ذریعے انہیں یاد رکھیں گے۔ ہم ایک خاندان کے طور پر بہت سے لوگوں کی طرف سے زبردست حمایت اور گرمجوشی کے اظہار کے لیے شکر گزار ہیں۔ ہم حکومت پاکستان، پاک فوج کے سربراہ اور 10 کور کے کمانڈر، پاکستان کے دفتر خارجہ، صوبہ گلگت بلتستان کی مقامی حکومت، جناب خالد خورشید وزیر اعلیٰ، جناب راجہ ناصر وزیر سیاحت کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، جیسمین ٹورز میں مسٹر اصغر، علی سدپارہ کے اہل خانہ اور دوست، پاکستان کے اچھے لوگ، مقامی اور بین الاقوامی میڈیا ان کی مسلسل حمایت کے لیے۔ ہم اسکردو کے مقامی فوجی کمانڈروں اور پائلٹوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے تلاشی مشن کی قیادت کی،پاکستان ہمیشہ میرے دل میں اور ہمارے بچوں کے دلوں میں رہے گا اور اس طرح ہم چند سالوں میں واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب بچے بڑے ہو جائیں گے اور K2 بیس کیمپ تک ایک خاندان کے طور پر ساتھ چلیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے