ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سوات میں محرم کے بغیر خواتین کے باہر نکلنے پر پابندی

خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے ایک گاؤں منگلور میں شادی اور غم وخوشی کی دیگر
تقریبات میں غیر ضروری رسومات کے خاتمے کے لیے گرینڈ جرگہ نے بڑے اور اہم
فیصلے کرلئے۔علاقے کے مکین شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں فرسودہ اور غیر شرعی
رسومات سے گریز کریں گے۔

جرگہ کے رکن احسان اللہ خان نے بتایا کہ اس اہم اور گرینڈ جرگہ میں مقامی عمائدین اور علمائے
کرام سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جرگہ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ نکاح صرف مسجد میں ادا کیا جائے گا اور شادی
کی تقریب میں صرف گنتی کے مرد ہی شرکت کریں گے۔
اس شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والے افراد کو صرف کھجوریں دی جائیں گی۔ اسی طرح
ایک شادی میں دلہن کا عروسی لباس انتہائی سادہ ہوگا اور اس کے لئے زیادہ سے زیادہ دس
سوٹ خریدے جائیں گے۔

ولیمہ بھی ہر شخص کی طاقت کے مطابق ہوگا اور بارات میں صرف پانچ گاڑیاں ہوں گی۔ دلہن کا
باپ دولہے کے والد کو کسی قسم کی رقم نہیں دے گا اور کھانا بھی نہیں بھیجے گا۔
جہیز کا سامان بھی مختصر ہوگا اور سسر اور ساس کے علاوہ کسی اور کے لیے سوٹ نہیں
خریدا جائے گا۔
بچی کی پیدائش پر کوئی سونا وغیرہ نہیں دیا جائے گا اور ماں اور بچے کے لیے استطاعت کے
مطابق صرف پانچ سوٹ خریدے جا سکیں گے۔
غم کے دوران نہ مٹھائی اور چائے ہوگی اور نہ ہی سوئم اور چہلم منایا جائے گا۔علاقے میں
کوئی بھی شخص سالگرہ کی غیر شرعی رسم نہیں منائے گا۔ خوشی کے لمحے میں مبارکباد
دینے والی خواتین اہل خانہ کو صرف 1000 روپے تک ہی دیں گی۔
علاقے کے مکین ماں، بہن اور بیٹی کو شریعت کے مطابق وراثت میں مکمل حصہ دیں گے۔
خواتین محرم کے بغیر سوداسلف خریدنے کے لئے بازار نہیں جائیں گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں