ہندو برادری کے قدیم اور مقدس آستان سادھو بیلا مندر کی تاریخ کتنی پرانی ہے اور یہ دریائے
سندھ کے کس جزیرے پر واقع ہے آئیے جانتے ہیں۔
فن تعمیر کے شاہ کار سادھو بیلا مندر کو کسی دور میں مینک پربت کہا جاتا تھا مگر بعد میں ایک
ہندو سادھو جس کا نام بابا بنکھنڈی مہاراج تھا، ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
وسیع و عریض رقبے پر پھیلا سادھو بیلا مندر دو الفاظ کا مرکب ہے سادھو مطلب سادھو یا مقدس
شخص اور بیلا کا مطلب جنگل کے ہیں۔ تاریخ مطابق 1823 میں نیپال سے ہجرت کرکے بابا
بنکھنڈی مہاراج نے اس جزیرے میں آکر سکونت اختیار کی اور یہیں تمام عمر گذار دی۔
جزیرے پر واقع اس قدیم ترین تیرتھ استھان میں چھوٹے بڑے آٹھ مندر ہیں۔ مندرز کے احاطوں میں
کشادہ کمرے, خوبصورت پارک، یاتریوں اور پجاریوں کے لیے رہائشی کمرے اور لائبریری
بھی شامل ہیں۔
اس قدیم ترین استھان سے جڑی ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس جزیرے کو آباد کرنے والے بابا بنکھنڈی مہاراج کو خواب میں دیوی انوپرنا کا دیدار ہوا ۔ انوپرنا دیوی نے بابا بنکھنڈی مہاراج کو بیضوی شکل کا ایک خوبصورت و مقدس پتھر دیا اور کہا اسے اپنے پاس رکھنے سے نہ صرف اس جزیرے بلکہ اس کے اطراف کبھی بھی خوراک کی قلت نہیں ہوگی۔
بابا بنکھنڈی مہاراج نے وہ مقدس پتھر اپنے پاس رکھا اور یہاں آگ کا چھوٹا سا الاؤ یعنی دھونی بھی جلائی جس کے بعد سے یہ جگہ آہستہ آہستہ آباد ہوئی اور آج یہ قدیم استھان سندھ کے یاتریوں کے لیے مقدس ترین مقام کے طور پر پہنچان رکھتی ہے ۔
ہر سال سندھ بھر سے یاتریوں کی بڑی تعداد اپنی منتیں لے کر یہاں کا رخ کرتی ہے۔ کشتی کے ذریعے سفر کرکے مندر تک رسائی حاصل کرکے بابا بنکھنڈی مہاراج سمیت دیگر مندروں کی پوجا سے سرفراز ہوتی ہے۔
No related posts.
