وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ
اگست 1, 2022
القمر
وزیراعظم شہباز شریف بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے کوئٹہ پہنچ گئے ہیں جہاں حالیہ دنوں میں موسلادھار بارشوں کے بعد سیلاب سے شدید تباہی ہوئی ہے جب کہ جاں بحق افراد کی تعداد 130سے تجاوز کرگئی ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں اور امدادی کیمپوں کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دورے کے دوران جان کر بہت دکھ ہوا کہ کیمپوں میں موجود لوگوں کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کیمپوں میں موجود سیلاب زدگان لوگوں نے کھانے اور پینے کے پانی کی قلت اور عدم دستیابی کی بھی شکایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے سہولیات کی کمی کی شکایت کی ہے اور میں نے ہدایت کی ہے متاثرین کی شکایات کو جلد از جلد دور کیا جائے اور ان کو مطلوبہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فی الفور انتظامیہ کے خلاف ایکشن لینا ہے جس نے یہاں موجود متاثرین کو کھانا نہیں پہنچایا، وزیراعلیٰ بلوچستان عبد القدوس بزنجو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے اور متاثرین کی بھرپور مدد کی جائے گی اور اس سلسلے میں پائی جانی والی تمام خامیوں اور کاتاہیوں کو دور کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو وفاق کی جانب سے 10 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں، آج بھی یہاں چیف تقسیم کیے جائیں گے، جن لوگوں کے مکان مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں ان کو 5 لاکھ روپے اور جن کے گھروں کو جزوی نقصان ہوا ہے ان کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والی فصلوں اور دیگر نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد مزید متاثرین کی بھی مدد کی جائے گی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج بڑا ہے مل کر مقابلہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، میڈیکل کیمپ کا جال پھیلایا جائے، غیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کےساتھ انفراسٹکرکچر تباہ ہوا، وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کیلئے پرعزم ہیں ، آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے، مخیر حضرات بھی متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ یہاں دورے کے دوران کئی مسائل کی نشاندہی ہوئی، ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہاں موجود لوگوں کو راشن فراہم کیا گیا ہے اور اگر راشن فراہم نہیں کیا گیا جیسا کہ لوگ کہہ رہے ہیں تو ان کے خلاف فوری کارروائی ہوگی اور تمام ذمےدار افسران کو معطل کیا جائے گا۔
عبد القدوس بزنجو نے گفتگو کے دوران چیف سیکریٹری بلوچستان کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کریں اور غفلت کے ذمےداران معطل ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آج سے امدادی کیمپوں میں کھانا فراہم کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کہ بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش سے متعلقہ حادثات میں مزید 9 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں سے متعلقہ حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 136 ہو گئی ہے۔
وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر دفاعی پیداوار اسرار ترین، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع، وزیر نارکوٹکس کنٹرول شاہ زین بگٹی، وزیر مملکت برائے توانائی محمد ہاشم نوتیزئی، متحدہ مجلس عمل کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی موجود ہیں۔
کوئٹہ جانے والی پرواز کے دوران این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے وزیراعظم شہباز شریف کو بلوچستان میں جاری ریلیف اور ریسکیو سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دی۔
سرکاری ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ پہنچنے کے بعد این ڈی ایم اے کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کے بعد بارشوں اور سیلاب سے جان کی بازی ہارنے والوں کے لواحقین کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپوں کی تعداد بڑھانے کی ہدایت بھی کی تاکہ لوگوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ایک روزہ دورہ بلوچستان کے دوران وزیراعظم کا چمن میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی متوقع ہے۔
امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک ہفتے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کا بلوچستان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔
انہوں نے 2 روز قبل بھی صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اور سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد اور بحالی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تھا۔
بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کی تباہی
پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک بارشوں سے متعلقہ حادثات میں 136 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ اس دوران 70 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ جانی نقصان کے علاوہ، صوبے میں بارشوں کے باعث کئی سڑکیں اور پل سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، لسبیلہ اور سندھ کو ملانے والا پل جو کہ 7 روز قبل ٹوٹا تھا، تاحال اس کی مرمت نہیں کی نہیں کی جاسکی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ کوئٹہ کو زیارت، چمن اور سبی سے ملانے والی سڑکیں بھی بارشوں سے متاثر ہوئیں ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ یکم جون سے اب تک صوبے میں بارشوں سے 13,535 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 10,129 کو جزوی اور 3,406 مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
اتھارٹی نے کہا کہ صوبے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں بارشوں سے 13 ہزار 535 مکانات کو نقصان پہنچا، 10 ہزار 129 مکانات کو بارشوں سے جزوی نقصان ہوا جبکہ 3 ہزار 406 مکانات منہدم ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں ریلیف آپریشن بھی جاری ہے، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، جھل مگسی، قلات، خضدار، نصیر آباد، جعفر آباد اور واشک میں امدادی سامان پہنچایا گیا۔