پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر
سکندر سلطان راجہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنا دیا. پارٹی چیئرمین اور ان کی
جماعت کے خلاف یہ کیس 8 سال سے چل رہا تھا۔
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے
کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ لی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ صبح 10 بجے سنانے کا اعلان کیا تھا
تاہم کچھ دیر کی تاخیر کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے فیصلہ سنانا شروع کیا۔
الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈ
لیے ہیں، 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے لیکن پی ٹی آئی ان اکاؤنٹس کے بارے میں بتانے
میں ناکام رہی.
پی ٹی آئی کے امریکہ، کینیڈا سے ملنے والی فنڈنگ اور ووڈن کرکٹ سے ملنے والی
فنڈنگ بھی ممنوعہ قرار دے دی گئی ہے.
آئین کے مطابق اکاؤنٹس چھپانا غیر قانونی ہے، پی ٹی آئی نے 34 غیر ملکیوں سے فنڈ لیے ہیں۔
متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے فارم ون جمع کرایا جو غلط تھا، الیکشن کمیشن
نے تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کی منسوخی اور پارٹی کے
مستقبل سے متعلق قیاص آرائیاں سب دم توڑ گئیں. الیکشن کمیشن میں عمران خان کی جانب
سے غلط بیان حلفی پر آئین کی شق 62 ون ایف کا اطلاق یا فوجداری مقدمات قائم ہونے
سے متعلق سوالوں کے جواب بھی قوم کو مل گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن میں 2014 چلنے والے کیس کا فیصلہ گزشتہ ماہ 21 جون کو محفوظ
کیا گیا تھا. کیس پارٹی کے بانی اور عمران خان کے قریبی دوست اکبر ایس بابر نے
درج کرایا تھا.
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اور
ہائیکورٹ دونوں کے فیصلے ہیں کہ تینوں جماعتوں کے کیسز کا فیصلہ الیکشن کمیشن
کرے لیکن الیکشن کمیشن نون لیگ اور پیپلزُپارٹی کے فنڈنگ معاملات کو دیکھنے کی
زحمت نہیں کر رہا آج کوئی آسمان نہیں ٹوٹنا سیاسی فیصلے الیکشن کمشنر نہیں عوام
نے کرنے ہیں اصل فیصلہ عوام کا ہو گا.
دو صوبوں کی اسمبلیاں الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہیں اگر کوئی
بھی جمہوری روائیت ہوتی تو الیکشن کمیشن خود استعفیٰ دے دیتا لیکن یہاں روایات کا
احترام نہیں ہے اور لوگ عہدوں سے چمٹا رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں.
