شمع سے شمع جلے سلسلہ جاری رہے
ہم رہیں یا نہ رہیں یہ عزاداری رہے
ضلع اٹک کے قدیم گاؤں میں ڈیڑھ سو سال سے عزاداری روایتی انداز میں جاری
عزاداری سید الشہداء کا ایسا سلسلہ جو قومی وحدت اور بھائی چارے کی عظیم مثال ہے
پانچ پیڑھیوں سے سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، آج بھی سو سال سے زائد عرصہ کے قدیم تعزیے و علم برآمد کئے جاتے ہیں
اٹک/پنڈی گھیب (شفقنا نیوز) پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء کی یاد مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ منائی جاتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں عزاداری سید الشہداء ایک قدیم، تاریخی ورثہ سے کم نہیں جی ہاں اسلام آباد سے 120 کلومیٹر شمال مغرب کی جانب سے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں ڈھلیاں شہر میں آج بھی عزادارئ سید الشہداء مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے اور بلا تفریق رنگ و نسل مسلک و مذہب تمام عزادار انتہائی عقیدت و احترام سے یکم محرم الحرام تا 22 صفر المظفر تک غمِ حسین اپنے اپنے انداز میں مناتے ہیں –
شفقنا نیوز نے جب ڈھلیاں شہر میں بزرگ عزاداروں ، سادات کے خانوادوں اور زمیندار فیملیز سے استفسار کیا تو ان کی جانب سے بتایا گیا کہ ہماری پیدائش بلکہ ہمارے والدین کی پیدائش سے بھی پہلے کی یہ عزاداری کا سلسلہ جاری ہے اور بغیر کسی مذہبی و مسلکی قید کے تمام محبان اہل بیت جلوس عزا اور مجالس عزا میں شریک ہوتے ہیں
ڈھلیاں شہر میں جلوس کے مرکزی منتظم سید غلام عباس شاہ اور ڈھلیاں شہر کی سنگت (ماتمی دستے) کے سالار سید منتظر حسین شاہ سے جب شفقنا نیوز نے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہماری عزاداری سید الشہداء کا یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ سو سال کی تاریخ رکھتا ہے- سید غلام عباس شاہ کا کہنا تھا کہ ایام غم شروع ہوتے ہی ہمارے اس علاقے میں سنی شیعہ یا مذہب کی قید ختم ہو جاتی ہے اور سب پر اور ہر طرف ایک ہی رنگ نظر آتا ہے اور وہ حسینی رنگ ہوتا ہے، ہم عشروں اور صدیوں سے یہ عزاداری اسی جذبے کے ساتھ مناتے چلے آرہے ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا-
سید منتظر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بزرگوں کی میراث کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں کہ ہمارا فقط مقصد امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور ان کے مقصد کو آئندہ نسل تک پہنچانا اور انہیں کربلائے معلیٰ کے مقاصد بارے روشناس کرانا ہے، کچھ مشکلات ضرور ہوتی ہیں مگر جب باہمی محبت اور وحدت ہوتو پھر یہ مشکلات ختم ہوجایا کرتی ہیں-
سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہی ایک اور فرد سید مظہر حسین کا کہنا تھا کہ یہاں سبیل و نیاز اور نوحہ خوانی سے علم کی برآمدگی تک میں اہل سنت برادران ہمارے پیش پیش ہوتے ہیں . ڈھلیاں کی سماجی اور عزادار فیملی میں سربراہ کی حامل شخصیت الحاج ممتاز خان سے جب استفسار کیا کہ تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بزرگوں سے قبل یہ سلسلہ شروع ہوا پہلے پہل ڈھلیاں میں الگ الگ عزا خانے آباد تھے اور پھر سادات اور مقامی ملک فیملی ( فتح علی ملک، آصف علی ملک، ملک ممتاز خان، ملک امیر خان) نے ایک ہی جگہ فرش عزا بچھانے اور پرسہ دینے پر اتفاق کیا تو اس کے بعد سے آج تک یہ سلسلہ اسی طرح خوش اسلوبی سے چل رہا ہے-
ڈھلیاں کے ہی ایک اور سماجی شخصیت اور عزادار فیملی کے سربراہ بابو غلام صفدر نے اپنے والد بزرگوار غلام حیدر مرحوم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ عزاداری سید الشہداء کا ڈھلیاں میں قدیم سلسلہ ہے یہ ضلع اٹک کے ان چند علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں تقریباً ڈیڑھ سو سال کے لگ بھگ عزاداری سید الشہداء منائی جارہی ہے-یوم عاشور پر نکالے جانے والے تعزیے (جنہیں مقامی زبان میں زری پکارا جاتا ہے) اور شبیہ علم غازی عباس علیہ السلام تقریباً ایک سو بیس سال کے لگ بھگ ہیں۔
یہاں کے منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ مذہبی کے ساتھ ثقافتی ورثہ بھی ہے کہ کس طرح 100 سال قبل عزاداری منائی جاتی تھی اور کس طرح سے تعزیے تیار کئے جاتے تھے- تعزیوں کی تیاری کے سلسلے میں ایک اور عزادار کا کہنا تھا کہ پہلے پہل پیپل، بانس اور دیگر اشیاء کے ساتھ یہ تعزیے تیار کئے جاتے تھے اور ان پر باریک پیپرز کے ذریعے تزئین و آرائش کی جاتی تھی البتہ بعد ازاں لکڑ کے ساتھ کپڑے اور اس پر کڑھائی نے اس کی جگہ لے لی جو پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط تصور کی جاتی تھی اور آج بھی صرف سوئی دھاگہ سے کی گئی کڑھائی اس وقت کے عزاداروں کی عقیدت و احترام کا منہ بولتا ثبوت ہے-
ڈھلیاں جو معدنی وسائل کے لحاظ سے بھی ضلع اٹک میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے وہاں عزاداری سید الشہداء میں اہل سنت نہ صرف تعزیے اٹھاتے ہیں بلکہ نوحہ خوانی کے ذریعے بھی اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں جبکہ آج سے چند سال قبل تک نماز ظہرین بھی گاؤں کی قدیم اہل سنت کی جامع غوثیہ مسجد میں باجماعت ادا کی جاتی رہی ہے- ڈھلیاں میں شب عاشور ہی جلوس کا آغاز قدیم امام بارگاہ نور محل سے کردیا جاتا ہے اور نماز فجر سے قبل مجلس عزا کے اختتام کے ساتھ مرکزی امام بارگاہ میں کچھ توقف کیا جاتا ہے اور پھر جلوس عزا کا آغاز شہادت حضرت علی اصغر علیہ السلام سے منسوب مجلس عزا سے یوم عاشور صبح کیا جاتا ہے جو اپنے قدیم روایتی راستوں سے ہوتا ہوا اختتام عصر عاشور دربار پیر زمان شاہ (موتیاں والی سرکار) پر کیا جاتا ہے-
ڈھلیاں کی عزاداری اور بھائی چارے میں بنیادی کردار ادا کرنے والی شخصیات میں سید ظفر اقبال شاہ ، سید ارشاد حسین شاہ، سید لعل بادشاہ، باوا کرم حسین شاہ، سید مظہر حسین شاہ، سید کریم حیدر شاہ، پیر پھل بادشاہ، چیئرمین غلام حیدر اور سابق خطیب مسجد مولانا امیر حسین ترابی مرحوم، حاجی مظفر حسین مرحوم کا اہم کردار رہا جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رہے گا جبکہ حال میں اس علاقے میں امن و امان کیساتھ اسی اتحاد کے جذبے کو برقرار رکھنے میں سیاسی و سماجی شخصیت آصف علی ملک کے ساتھ علاقے کی تمام برادریوں اور ان کے سربراہان کا بنیادی کردار ہے جنہوں نے مذہبی و مسلکی اور سیاست سے بالاتر ہوکر آج تک اس وحدت کو قائم رکھا ہوا ہے-
انتظار حسین
شفقنا اردو
