English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

القمر

اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کے الزام میں اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔

عماد یوسف کو کراچی انکی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ عماد یوسف کی گرفتاری کی اطلاع اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دی ہے۔ اینکر صابر شاکر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ عماد یوسف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سینیئر صحافیوں نے عماد یوسف کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ ان کا کوئی صحافی پس منظر نہیں تھا اور وہ کوکنگ شو کے منیجر تھے۔ وہ سلمان اقبال کے ذاتی معاملات بشمول سلمان اقبال کے خاندان، کاروباری و سماجی معاملات کو دیکھ رہے تھے۔ عماد یوسف کا سابق حکمران جماعت تحریک انصاف کے وزراء سے گہرا تعلق تھا۔ عماد یوسف کھلے عام پی ٹی آئی کی کوریج کا انتظام کر رہے تھے۔ انکے سامنے نیوز روم والے بے بس تھے کیونکہ وہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے بارے میں تمام خبروں کے حوالہ سے لکھ کر دیتے تھے ۔

سینئر صحافی محسن ریاض نے سلمان اقبال کی ٹویٹ کے جواب میں ایک طویل تھریڈ لکھا اور کہا کہ "ادارے کے بانی کارکن کے طور ہر میری چند گزارشات ہیں کہ اویس توحید کے بعد ڈائریکٹر نیوز کا عہدہ ختم کرکے ایکُ ایسے شخص کو ھیڈ آف نیوز بنایا گیا جس کا نیوز سے دور دور تک کا تعلق نہیں تھا کیونکہ وہ شریف آدمی آپ کا کٹھ پتلی تھا عماد یوسف کی فوج کو اکسانے کے کھیل میں کون شامل تھا”

انہوں نے پوچھا کہ عماد یوسف کو کس نے اختیار دیا تھا کہ وہ سوائے ایک جماعت کے کسی دوسری جماعت کی خبر نہ چلائے شہباز گل والا ڈرامہ آپ کی مرضی سے سٹیج ہوا ہوگا پہلے آپ کا موقف تھا کہ سٹریٹیجک سیل کی ہماری جولائی کی خبر کی تصدیق ہوئی کل آپ نے ٹویٹ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عماد یوسف ٹرانسمیشن میں ایسے اینکروں کو نہیں بٹھاتا تھا جو پی ٹی آئی کے حامی نہ ہوں اس نے بنی گالہُ کو ہوا بنادیا تھا پی ٹی آئی کے لوگوں سے اس کے مراسم تھے اور شہباز گل کا beeper manage کیا گیا اب آپ اس سے مکر رہے ہیں۔

انہوں نے سلمان اقبال کو مخاطب ہو کر کہا کہ Non professional کو آپ نے head of news بنا کر اپنے چینل کو خود ہی non professional بنایا جس پر برطانیہ میں آپ پر defamation کے 13 مقدمات ہوئے جس کے نتیجہ میں ARY UK کے صدر کو دیس نکالا ہوا اور ایک مقدمہ آپ کراچی میں ہار گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ آپ نے صحافت کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیا کبھی آپ آصف زرداری کی خوشامد میں اتنا آگے نکل جاتے تھے کہ اس کی شان میں پیکج لازمی چلواتے تھے اور کبھی آصف زرداری کو بے نظیر کا قاتل ثابت کرنے کے لئے پروگرام کرواتے تھے، آپ نے اسحاق ڈار اور عمران خان کی حکومت میں ٹیکس میں رعائیت لی۔

اے آر وائی کے سابق صحافی محسن ریاض نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں واشنگٹن میں کسی کے کہنے پر آپ نے کیری لوگر بل کی حمائیت میں جیو کے “ذرا سوچئے “ کی طرز پ فوج مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش کی لیکن پیشہ ور صحافیوں نے ایسا کرنے سے آپ کو روکا پھر آپ فارمولا چینل بن گئے آپ کے اینکر آلہ کار بن گئے اور صحافت دم توڑ گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج آپ کو جس پریشانی کا سامنا ہے اس میں اور کسی کا نہیں آپ کا غیر پیشہ ورانہ رویہ اور سوچ تھی اگر شہباز گل کے موبائل سے عماد یوسف سے رابطہ اور اس سازش میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے تو پھر آپ کیا کریں گے نصراللہ ملک جیسے عامل صحافی پر آپ نے جھوٹے الزامات لگائے۔

سینیر صحافی آصف بشیر چوہدری نے بھی سلمان اقبال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "زوق ٹی وی پر کھانا پکانے کی ترکیبوں بتانے والے باورچی عماد یوسف جس کا صحافت سے دور دور کا واسطہ نہیں کو آپ نے ہیڈ آف نیوز بنا دیا اب کسی سے کیا گلہ ____ میڈیا کی تقسیم کی بنیاد آپ نے میر شکیل الرحمن کے خلاف اپنا کندھا ایجنسی کو پیش کر کے خود رکھی اب یہ اپیلیں بیکار ہیں____!!!”

سوشل میڈیا صارف اے کے نے سوال کیا کہ اور ایک اور بات یہ کہ یہ بیپر اگر نیوز کے دوران لیا گیا تھا اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ کالز کراچی سے لائن اپ ہوی تھیں اور کالز کا کنٹرول بھی انہی کے پاس تھا یعنی عماد یوسف کے پاس وہ جب چاہتے ان کالز کو بند کرا سکتے تھے۔

سینئر صحافی اعزاز سید نے بھی سلمان اقبال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ویسے جیو پر پابندیاں لگانے میں آپ آگے آگے تھے ، اس وقت آپکو سمجھاتے تھے کہ کل آپکی باری بھی آسکتی ہے مگر آپ کو شرم نہ آئی۔ PBA اجلاس بلوائیں سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں اور آئندہ کیلیے توبہ کریں”

خیال رہے کہ اے آر وائی نے گزشتہ روز اداروں کے خلاف باقاعدہ ایک مہم کے طور پر پروگرام کیا اے آر وائی پر ہونے والے پروگرام کے بعد تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اے آر وائی کو پیمرا نے شوکاز نوٹس بھی جاری کر رکھا ہے۔

اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے معافی بھی مانگی ہے اور کہا ہے کہ اے آر وائی ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ کھڑا رہے گا انہوں نے ٹویٹ کے آخر میں پاکستان زندہ باد بھی لکھا۔

دوسری جانب عماد یوسف کی گرفتاری کی ملک بھر کی صحافتی تنظیموں اور پریس کلبز نے شدید مذمت کی ہے، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے اپنے بیان میں کہا آزادی اظہار پر قدغن کسی طور پر برداشت نہیں، صحافیوں کے ساتھ ہر دم کھڑے ہیں، حکومت صحافیوں کا احترام کرے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینا چاہیئں، اے ایچ خانزادہ کا کہنا تھا کہ اے آر وائی کے خلاف انتقامی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں، حکومت نے انتقامی کارروائی بند نہ کی تو ملک بھر میں احتجاج ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے