اتحادی حکومت نے وفاقی وزرا کی تعداد بڑھا کے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا اب وزرا زیادہ ہیں اور
وزارتیں کم پڑ گئی ہیں۔ اس سے پہلے پچھلی حکومت میں نصف سنچری سے 2 اوپر یعنی 52 رکنی
کابینہ تھی۔
بارہ تیرہ جماعتوں سے مل کر حکومت بننے کی وجہ سے وزیراعظم شہباز شریف پر دباؤ بہت زیادہ
ہے جس کی وجہ سے کابینہ میں مسلسل توسیع کی جارہی ہے۔ بعض وزیر بغیر قلمدان کے وزارتوں
کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تمام جماعتیں اپنے اپنے بھاری بھرکم لوگوں کو کابینہ میں ایڈجسٹ کرنے میں لگی
ہوئی ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود و مہنگائی کنٹرول کرنے پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔
غیر ضروری اور غیر اہم چیزوں میں لگے ہوئے ہیں اور اصل مسائل کی جانب دیکھنے کی زہمت
تک گوارہ نہیں کی جارہی ہے۔
پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والوں کو بھی ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔ اس حکومت کی مظلومیت کی ایک اور
مثال پاکستان ٹیلی ویژن کی پالیسی ہے جس کی سمت کا تعین ہی نہیں ہو پارہا ہے۔
تمام جماعتوں باالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی مسلم لیگ ن کی طرح بھرپور کوریج کا وقت دینے
سے ادارہ کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ اطلاعات کی وزیر بھی پیپلز پارٹی کے بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔
اگر یہی صورت حال کچھ اور وقت تک جاری رہی تو سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن تو ملکی
وسائل سے فیضیابی حاصل کرلیں گے لیکن عوام اور ملک کی قسمت میں طویل تاریکی لکھ دی جائے گی۔
اتحادیوں نے حکومت میں آکے کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا تھا بالکل عمران خان حکومت کی طرح ،
انہوں نے بھی نام کی مہم کا اعلان کیا اور اس پر عمل کہیں نہیں دیکھائی دیا۔ یہ حکومت بھی اسی راہ پر
گامزن ہے۔ حکومت کو چاہیے عوامی مسائل ہیں ان پر توجہ دے نہ کے غیرمقبول فیصلے کر کے عوام
پر ہی ظلم و ستم کیا جاتا رہے۔
