کراچی: (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث کراچی کے شہری آج پاکستان کا75 ویں یوم آزادی بارش اور سیوریج کے پانی، کیچڑ،کچرا ، تعفن اور گندگی غلاظت کے ڈھیر کے ساتھ منائیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ ،صوبائی وزیر بلدیات اور ایڈمنسٹر یٹر کراچی کی جانب شہر کی صفائی ستھرائی میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کہ بلند بانگ دعوے بے سود ثابت ہورہے ہیں ، شہر کے تجارتی،کاروباری و رہائشی علاقوں میں صفائی ستھرائی نہ ہونے کی وجہ سے گندگی کے ڈھیر جمع ہو گئے ہیں گندگی سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے بیماریاں جنم لے رہی ہیں ۔
کراچی میں گندگی غلاظت کے ڈھیر تاحال موجود ہیں ، سیوریج کا پانی صاف نہ ہونے سے متعدد علاقوں میں تعفن اور بدبو نے لوگوں کا جینا دو بھر کردیا ہے محکمہ بلدیات حکومت سندھ ، کے ایم سی ،ڈی ایم سیز،صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ،سندھ سالڈویسٹ مینجمنٹ اور کنٹونمنٹ بورڈز سمیت دیگر ادارے صورتحال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔
اہم شاہراہوں پر پڑنے والے گڑھوں کی تاحال کے ایم سی، ڈی ایم سی سیز سمیت کسی متعلقہ ادارے نے مرمت کا آغاز نہیں کیا ہے جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے حادثات بڑھنے کے ساتھ گاڑیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
متعدد علاقوں میں کچرے کے ڈھیر،بارش اور سیوریج کا گندہ پانی جمع ہے مکھی مچھروں کی بہتات سے امراض میں اضافہ ہوگیا ہے اب تک کسی ادارے کی جانب سے اسپرے کاآغاز نہیں کیا گیا ہے کچرے کے ڈھیر اور ناقص صفائی ستھرائی کا نظام اس وقت کورنگی ضلع وسطی، غربی، ملیر اور جنوبی کے بعض علاقوں میں بہت زیادہ خراب ہے۔
اس وقت بارش اور سیوریج سے متاثرہ علاقوں میں گلستان جوہر، لیاقت آباد ڈاکخانہ فلائی اوور کے نیچے، سیکٹرفائیو ایف نیوکراچی، گلشن اقبال بلاک ، پی ای سی ایچ ایس، شہیدملت روڈ ، سندھی مسلم سوسائٹی، کراچی ایڈمن سوسائٹی، اورنگی ٹاﺅن ، ملیرکالابورڈ، ماڈل کالونی، شاہ فیصل کالونی، خالدآباد فردوس کالونی گلبہار، لیاری میں بہارکالونی، آگرہ تاج کالونی، محمدی کالونی فیڈرل بی ایریا، بلاک بی نارتھ ناظم آباد ، گلبرگ، ایف بی ایریااورکیماڑی سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔
دریں اثنا شہر میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات پر شہریوں نے وزیر اعلی سندھ، ایڈمنسٹر یٹر کراچی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کے دیگر ایام کی طرح ہمیں پاکستان کی75 ویں یوم آزادی سیوریج کے پانی اور گندگی کے ڈھیر میں منانی پڑے گی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی میں ڈوبے کراچی میں امید ان سادہ سی چیزوں کا نام ہے کہ شاید یہ بارشیں اتنی تباہ کن نہ ہوں، چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے منتظر کراچی کے شہری معمولی سہولیات کے ہی عادی ہوگئے ہیں اور وہ ان سہولیات کے ساتھ ہی جشن آزادی منا سکتے ہیں۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی دعوئے تو کرتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کراسکتے ہیں، شہر قائد کی شاہراہیں تو صاف کی جارہی ہیں لیکن گلیوں ،محلوں میں موجود گٹروں نالیوں کچہرے کی صفائی نہیں ہو رہی ہے شہری دوہرے عذاب میں مبتلا زندگی گذارنے میں مصروف ہے۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ حکومتی ادارے جب تک اجتماعی طور پر مسائل سے نمٹنے کے لیے کام نہیں کریں گے صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوسکتی ہے۔شہریوں نے بالا حکام سے شہر میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
