ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد سہیل نے کہا ہے کہ مہینوں کی معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے بعد، بلومبرگ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر اگست میں پاکستانی روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ اب تک دوسرے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سرفہرست ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈالر کے حساب سے رواں ماہ پاکستانی کرنسی 11 فیصد بڑھی جبکہ KSE100 انڈیکس میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔ محمد سہیل کے ٹوئٹ کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ری ٹؤئٹ بھی کیا۔
واضح رہے کہ رواں ماہ سے اسٹاک مارکیٹ اور روپے کے قدر میں مسلسل بہتری کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی کرنسی میں مزید 2 روپے 49 پیسے کمی دیکھی گئی۔ جس کے بعد ڈالر 213 روپے کا ہو گیا۔ اس سے قبل جمعہ کے روز انٹربینک میں کاروباری دن کے اختتام پر ڈالر 215 روپے 59 پیسے پر جبکہ اوپن مارکیٹ میں 212 روپے 50 پیسے کی سطح پر دیکھا گیا تھا۔ کرنسی ڈیلروں نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی ڈالر کی ویلیو میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیر کو کاروبار آغاز میں ہی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس میں 333 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا 43000 پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی۔ اس سے قبل جمعہ کو سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران 240 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اور ہنڈرڈ انڈیکس 42483 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔
After months of economic and political uncertainties, happy to see #Pakistan Rupee and Stock Market being Top Performers so far in August beating all other countries based on Bloomberg data. PKR is up 11% while KSE100 Index up 22% in US$ @MiftahIsmail @StateBank_Pak pic.twitter.com/1cX1tWp6PN
— Mohammed Sohail (@sohailkarachi) August 15, 2022
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کی ماہ اگست کے اختتام سے پہلے بحالی سے میکرو اقتصادی استحکام آنے والا ہے کیونکہ تمام شرائط پوری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ادائیگیوں کا توازن اب کنٹرول میں ہے۔ ہائیڈل پاور میں اضافے، کم توانائی کی طلب اور تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے پاکستان کا آنے والے مہینوں میں ادائیگیوں کا توازن سرپلس بھی کر سکتا ہے۔
منگل کو پی ایس ایکس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں پی ایس ایکس کی اعلیٰ انتظامیہ اور کیپٹل مارکیٹ کے دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
ٹیکس کے اقدامات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کی سختی سے پیروی کی جائے گی اور تمام اضافی اخراجات کو ٹیکس کے اقدامات سے مکمل طور پر فنڈ کیا جائے گا۔ 10 فیصد سپر ٹیکس صرف ایک سال کے لیے لگایا گیا ہے جبکہ متبادل آمدنی کے ذرائع تلاش کیے گئے ہیں۔
