English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ٹی وی یا قبضہ مافیا

القمر

تحریرمحمد امنان

زیادہ دور کی نہیں یہ اسی سال کے فروری یعنی 2022 کی بات ہے کہ چند ماہ کی بیروزگاری کے بعد پی ٹی وی میں نوکری ہو گئی اچانک سے میں خود حیران تھا کہ یہ سفارش یا کسی سیاسی اثر و رسوخ کے بغیر کیسے ممکن ہو گیا مگر خیر یہ ہو چکا تھا

چند دوستوں سے ادھار اٹھا کے سیدھا اسلام آباد کی راہ لی اور کام شروع کر دیا گیا پی ٹی وی میں ایک کیٹگری ہے جسے ٹرانسلیٹر کہا جاتا ہے یہ وہ کیٹگری ہے جو پہ ٹی وی میں بھیڑ بکریوں سے بھی بد تر سلوک سے رکھے جاتے ہیں ہماری پوسٹنگ بھی کچھ اسی انداز سے ہوئی تھی

تب عمران خان کی حکومت تھی فواد چوہدری اور میرے ہی شہر سے فرخ حبیب اطلاعات و نشریات کے وزیر اور وزیر مملکت تھے کام شروع ہوا تو مجھے پیکجنگ اور انٹرنیشنل ڈیسک کے ساتھ منسلک کیا گیا میں بہت خوش ہوا کہ یار چلو کام تو شروع ہوا کسی طرح اور وہ بھی سرکاری ادارے میں

لیکن یہ خوشی ایک ماہ بعد ہی غارت ہو گئی جب پتہ چلا کہ پی ٹی وی اپنے کیے ہوئے معاہدے کے مطابق تنخواہ نہیں دے رہا بلکہ جو تنخواہ بتائی گئی تھی اس سے بھی آدھی دے رہا ہے

خیر اپنے متعلقہ افسران اور اس وقت کے ڈائریکٹر نیوز کے سامنے اپنا مدعا رکھا تو روایتی انداز میں طفل تسلیاں دی گئیں کہ آئندہ ماہ کی تنخواہ پوری ملے گی میں بھئ مطمئن ہو گیا اسی دوران رمضان المبارک آگیا اور میں آخری روزوں میں اپنی دو ماہ کے ہفتہ وار چھٹیاں جمع کرا کے گھر آگیا عید پہ تنخواہ آئی تو پھر وہی تئیس ہزار 500 جبکہ پی ٹی وی کے لیٹر پہ 40500 لکھا گیا تھا پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہم جیسوں سے 20 فی صد انکم ٹیکس بھی کاٹا جاتا رہا۔

عید سے واپس آ کر افسران سے بات کی تو پھر وہی طفل تسلیاں وغیرہ وغیرہ نان پروفیشنلزم کی حد یہ کہ کسی بھی بڑے ایونٹ کیلئے قوم کے ٹیکس سے چلنے والے اس ادارے کے پاس پلان ہی نہیں ہوتا اور کہنے کو ہر ڈیپارٹمنٹ اور نیوز شفٹ میں 4 5 سے زائد افسران ہوا کرتے ہیں جنہیں خود جدید صحافت کا اندازہ نہیں اور نہ یہ پتہ کہ پی ٹی وی کو دیگر چینلز جتنے ناظرین کیسے دلائے جائیں

خیر جیسے تیسے کر کے میں نے 6 ماہ یہاں گذارے ان چھ ماہ میں مہنگائی دوگنی ہو گئی حکومت بدل گئی مگر نہ بدلا تو اس نام نہاد قومی ادارے کا رویہ نہ بدلا مجھ جیسے کئی وہاں پی ٹی وی میں موجود ہیں جو بس اس بات پہ اپنا استحصال کروا رہے ہیں کہ چلو کچھ نہ ہونے سے تو بہتر ہے نا اور پی ٹی وی انتظامیہ اسی بات کا فائدہ اٹھا کر پڑھے لکھے نوجوانوں سے جبری مشقت بھی لے رہی ہے اور استحصال الگ سے کر رہی ہے میں تو بار بار افسران سے کہہ کر تھک چکا تھا اس بیچ اپنا گذارہ کرنے کیلئے تنخواہ سے دوگنا وہاں ادھار لے چکا تھا دوستوں سے مگر پی ٹی وی والوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی ہر ماہ وہی بہانہ وہی سستی اور کاہلی کہ فلاں ڈیپارٹمنٹ کا افسر نہیں اپروو کر رہا آپکی تنخواہ آپ تھوڑا صبر کر لیں جبکہ اسی بیچ سفارشی بھرتیوں پہ ایسے افراد کو رکھا گیا جنہیں کی بورڈ پر اردو ٹائپنگ تک نہ کرنا آتی تھی جبکہ ہم جیسوں کو کہا جاتا تھا آپکو کام آتا ہے آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن تنخواک کے معاملے میں صبر کرنا پڑے گا خیر گھر میں کچھ ایمرجنسی حالات بنے تو میں چھٹی لیکر گھر واپس آگیا اور واپس نہ جانے کا پکا ارادہ کیا اس سلسلے میں متعلقہ افسر کو سب بتایا بھی مگر ادھر سے کوئی جواب نہ آیا۔

اس دوران سوشل میڈیا پہ پی ٹی وی کے اس گھناونے کردار پہ آواز اٹھائی تو وہاں کے ایک افسر نے رابطہ کیا جس کی خود کی تنخواہ لاکھوں میں ہے بجائے اسکے کہ معاملہ نمٹوائے اور پچھلے واجبات بھی کلئیر کرائے مجھ سے کہتا ہے آپ اسلام آباد آجائیں میرے آفس بیٹھ کر بات کرتے ہیں اس بندے کو میں نے بتلایا بھی کہ حضور میرے گھریلو حالات کافی پریشان کن ہیں اور میں دو وقت کے کھانے سے اوازار ہوں

یہ سب بتانے یا لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ پی ٹی وی جیسا ادارہ جہاں کئی افراد بغیر کام کئے تنخواہیں لے رہے ہیں بلکہ آپسی سیاست اور انا کے چکر میں فضول بھرتیاں کروا کے عوام پہ مزید بوجھ ڈال رہے ہیں وہ وہاں پہ غیر سیاسی طور پہ آئے افراد اور دن رات محنت کرنے والے افراد کو بھیڑ بکریاں اور ذاتی ملازم سمجھ کر انکا استحصال کرنے میں مصروف ہیں اور حکومت وقت کو خوش کرنے میں مصروف ہیں

موجودہ حکومت کا نام نہاد اور کھوکھلا نعرہ یہ ہے کہ یہ عوام کی خدمت کرنے آئے ہیں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے یہ گذارش ہے کہ اگر واقعی عوام کی خدمت کرنے آئے ہیں تو اپنی ناک تلے ہونے والی نا انصافیوں کو بھی ذرہ دیکھئے اور مجھ سمیت باقی ملازمین کے بقیہ پیسے اس ادارے سے دلوا دیں جہاں کی آپ بلا شرکت غیرے حکمران بنی بیٹھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے