ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ ترکی، اسرائیل کے لئے سفیر متعین کر رہا ہے۔
میولود چاوش اولو نے دارالحکومت انقرہ میں کرغزستان کے وزیر خارجہ جین بیک کولوبایف کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان سفیروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
چاوش اولو نے اسرائیل میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک مذاکراتی مرحلہ شروع کروانے کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ مذاکرات میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں اسرائیل کے ساتھ بحالی تعلقات کے لئے اٹھائے جا سکنے والے اقدامات میں سفیروں کی تعیناتی کا موضوع بھی شامل تھا۔ قبل ازیں ہم نے، اس معاملے پر کاروائیاں شروع کروانے کا، اعلان کیا تھا۔ اسرائیل کی طرف سے ایک مثبت قدم اٹھایا گیا ہے بحیثیت ترکی ہم نے بھی اسرائیل کے لئے سفیر متعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اللہ اسے خیر و برکت کا وسیلہ بنائے۔ اس کے بعد ناموں کے تعین کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے”۔
چاوش اولو نے کہا ہے کہ” ہم فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کرنا جاری رکھیں گے”۔
اسرائیل کے وزیر اعظم یائر لاپڈ کے دفتر نے بھی آج جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل دوبارہ سے ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو دوبارہ سے سفارتی سطح پر لانے اور دوبارہ سے دو طرفہ شکل میں سفیروں اور قونصل جنرلوں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسرائیل وزارت اعظمیٰ دفتر نے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ترکی کے ساتھ دوبارہ سے تعلقات کا آغاز، علاقائی استحکام کے لئے ایک اہم قدر اور اسرائیلی شہریوں کے لئے نہایت اہم اقتصادی خبر ہے۔ ہم دنیا میں اسرائیل کی حیثیت کو مضبوط بنانا جاری رکھیں گے۔ وزیر اعظم یائر لاپڈ اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور ترکی کے درمیان دوبارہ سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کر دئیے ہیں۔
