اسلام آباد : تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نیوٹرلز بند دروازے کے پیچھے کیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کریں،ہمیشہ سمجھتا رہا اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی زیادہ فکر ہوگی، اگر کوئی مجھے کہے ان چوروں کے نیچے زندگی گزارنی ہے تومیرے لیے موت بہترہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کی کرپشن اور کک بیکس کے حوالے سے مجھے اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی نے بتایا پھرکیسے کرپشن کرنے والوں کے حوالے ملک کر دیا گیا ، قرضے نہیں صاف شفاف الیکشن سے سیاسی استحکام آئے گا۔
چیئر مین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مجھے آزاد میڈیا سے کوئی خوف نہیں، آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کسی کی پگڑی نہ اچھالیں، نجم سیٹھی نے میرے خلاف الزام لگائے تو اسے عدالت لیکرگیا تھا، کرپٹ سیاست دانوں کو آزاد میڈیا سے خطرہ ہوتا ہے، نواز شریف نے نجم سیٹھی کو کرپشن پر آواز اٹھانے پر مار پڑوائی، مجھے کبھی آزاد میڈیا سے خوف نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ 1990ء میں دونوں پارٹیوں کو کرپشن کی وجہ سے نکالا گیا تھا، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کیسز بنائے تھے، 1996ء میں نوازشریف اور بینظیر بھٹو ملک سے پیسہ باہر لیکر گئی، نوازشریف نے اقتدارمیں رہ کر 17 فیکٹریاں بنالی تھیں، مشرف کی سپورٹ کرتے رہے کرپشن کو ختم کرنے آیا ہے، مشرف نے بعد میں انہی کواین آراودے دیا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ سوچتا تھا اسٹیبلشمنٹ ان کی چوری کو دیکھ کر ری ایکٹ کرینگے، کئی دفعہ مجھے آئی ایس آئی نے بھی ان کی کرپشن کے بارے میں بتایا، بدقسمتی سے نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں تھی، بعد میں پتا چلا ان کے اوپرکسی کی شفقت کا ہاتھ تھا، کسی کو نیب میں لیکر جاتے تو یہ لوگ مجھے گالیاں نکالتے تھے، اگر میرے ہاتھ میں نیب ہوتی تو ان سے کرپشن کا 15 ارب ڈالر نکلوا لیتے اور جیلوں میں ڈالتے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھتا ہوں، آپ نے ان لوگوں کوہمارے ملک پر کیسے مسلط ہونے دیا، آپ لوگ تو خود ان کی چوری بارے ہمیں بتاتے تھے، مولانا رومی کا قول ہے جب قوم اچھے اوربرے کی تمیزختم کردے ختم ہوجاتی ہے، جوملک لوٹتے ہیں ان پرپھول پھینکے جاتے ہیں، اسی لیے مدینہ کی ریاست میں امر بالمعروف پر چلنے کا حکم دیا گیا تھا۔عمران خان کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا رہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ ملک کی فکر ہو گی اور وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ وہ چوری دیکھ کر اس پر کارروائی کریں گے۔
