وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے دو روز کے دوران سندھ کے کئی اضلاع کو آفت زدہ قرار
دیا ہے لیکن بارش سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر حیدرآباد کو آفت زدہ قرار نہیں دیا گیا.
ڈپٹی کمشنر فواد غفار سومرو نے اب شہر کو آفت زدہ قرار دینے کے لیے بورڈ آف ریوینیو کو
سفارشات کردی ہے.
حیدرآباد میں 287 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی. 22 لاکھ آبادی کے شہر میں 85 فیصد شہری
افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں. دیہی علاقوں کے 80 دیہوں میں 95000 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو
شدید نقصان پہنچا ہے.
واسا، ایچ ایم سی اور سی بی ایم شہر سے بارش کا پانی نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں. بارش
سے 8 افراد جاں بحق اور 159 زخمی ہوئے ہیں.
حیدرآباد کو بارش کے علاوہ دریا کا پانی بھی نقصان پہنچا رہا ہے محکمہ ریلیف سے سفارش کی
جاتی ہے کہ حیدرآباد کو آفت زدہ قرار دیا جائے.
حیدرآباد کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں گلیوں میں کشتیاں چلائی جارہی ہیں اور وزیراطلاعات
شیرجیل میمن نے گزشتہ روز کہا تھا کہ شہر کے 80 فیصد حصے سے پانی نکال دیا گیا ہے.
