صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ہمارا مقصد اپنے ارد گرد امن اور تعاون کا ایک خطہ قائم کرنا ہے جس کی شروعات اپنے قریبی پڑوسیوں سے ہو گی۔
صدر ایردوان نے ان خیالات کا اظہار جنڈرا مری اور کوسٹ گارڈ اکیڈمی کے پریزیڈنسی کے افسران اور نان کمیشنڈ افسران کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی کا جغرافیائی محل وقوع انتہائی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی وہ ملک ہے جس نے افغانستان میں جاری اندرونی انتشار، یمن کے تنازعات، شام میں ظلم و ستم اور حملوں، بلقان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اپنے پڑوسیوں کے علاوہ وسیع تر بحرانوں کو سب سے پہلے محسوس کیا ۔ ہم نہ عراق سے، نہ یمن سے، نہ شام سے باہر ہیں ۔ ہم مغربی ممالک کی طرح ان مسائل سے دور تنہا ملک نہیں کہ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے دشمنی نہیں رکھتے۔ ہمارا مقصد قریبی پڑوسیوں سے شروع کرتے ہوئے اپنے ارد گرد امن اور تعاون کا ایک خطہ قائم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے روس یوکرین جنگ میں ترکی کے ثالثی کے کردار کو ادا کرنے کی بھر پور کوششیں صرف کیں۔ ترکی اپنی کامیابیوں سے سب کو متاثر کررہا ہے۔ ہم کسی بھی صورت دہشت گردی کو اپنے دروازوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے اس منبع کو بے اثر کردیا ہے۔ ہم نے ترکی کے فوجی آپریشن کو شام سے عراق تک بڑھا دیا ہے۔
