صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ اناج کی ترسیل پر مبنی معاہدہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکراتی دور کے دوبارہ آغاز کا وسیلہ بن سکتا ہے۔
ترجمان نے سی این این انٹرنیشنل پر ایک گفتگو کے دوران کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان دوبارہ سے مذاکرات شروع کروانے کےلیے عالمی تعاون کی ضرورت ہے جس کے لیے سب سے پہلے یوکرینی شہروں پر روسی حملوں کو رکوانا ہوگا جبکہ طرفین کے درمیان باہمی مفاہمت کا مظاہرہ ہونا بھی اس سلسلے میں اہم ہے ، ترکی اس کےلیےکوششیں کر رہا ہے۔
ابراہیم قالن نے امید ظاہر کی کہ عالمی توانائی کمیشن کا ایک وفد جلد ہی زاپوریا ری ایکٹر کا دورہ کر سکتا ہے ،ایک غیر جانبدار وفد آزادانہ ماحول میں وہاں تفتیش کرنے کا اگر پابند بن جائے تو امید ہے کہ کشیدگی کا یہ ماحول تھم جائے گا کیونکہ بشمول روس کوئی بھی ایک نئی جوہری تباہی کا محتمل نہیں ہوسکتا،ترکی عالمی وفود سے اس جوہری ری ایکٹر کے تحفظ کو ممکن بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ترجمان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ کریمیا کے روس سے الحاق کو ترکی غیر قانونی مانتا ہے اور اس موقف پر بدستور قائم ہے،کریمیا یوکرین کا حصہ ہے۔
