English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ،شہباز گل کی درخواست ضمانت خارج

القمر

اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی درخواست ضمانت خارج کردی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے شہبازگل کی درخواست ضمانت خارج کی۔اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاک آرمی کے افسران کیخلاف منظم طریقے سے ملزم نے بات کی اور ان کے الفاظ میں پاک فوج کے خلاف بغاوت کے لیے اکسایا گیاہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم نے پاک فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی جس سے سپاہی سے لیکر بریگیڈئیر رینک تک افسران کے جذبات مجروح ہوئے، بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرنا بھی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔

شہباز گل کے وکیل برہان معظم نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھاکہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟ اگر کوئی غلط فہمی ہے تو شہباز گل معافی مانگنے کیلئے تیار ہیں۔

رہنما پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت میں بغاوت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے بغاوت کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں، ان کے انٹرویو کے ٹرانسکرپٹ کے مختلف جگہوں سے پوائنٹ اٹھا کر مقدمہ درج کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟ ،شہباز گل پڑھا لکھا شخص ہے، انہوں نے فوج کو ہمارے سر کا تاج کہا ہے۔وکیل نے شہباز گل کا آفیشل ٹوئٹر عدالت کو دکھاتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کسی بھی جھوٹی خبر پر یقین نہ کریں، ٹوئٹس سے واضح ہے کہ انہوں نے فوج کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے متنازع بیان اور اینکر کے سوال کی ویڈیو بھی چلائی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے