اسلام آباد: پاکستان میں جدید سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث پھلوں اور سبزیوں کی مجموعی پیداوار کا 35 سے 40 فیصد ضائع ہو جاتا ہے،نقل و حمل کیلئے ریفر ٹرک کا استعمال ضروری،جامع اور موثر زرعی مارکیٹنگ نظام کا فروغ وقت کا تقاضا، ملک میں کوئی کولنگ اور پیکجنگ سینٹرز نہیں،ہول سیل مارکیٹوں کے آس پاس کولڈ اسٹوریج کی ناکافی سہولیات ہیں۔
ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق زراعت پاکستان کی سب سے اہم صنعت ہے جو اقتصادی توسیع اور ترقی کا بنیادی محرک ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ مند خدمات پیش کرنے والے ایک جامع اور موثر زرعی مارکیٹنگ نظام کا فروغ اس شعبے کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے شعبہ باغبانی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اعظم خان نے کہاکہ پاکستان میں خوراک کے بحران نے زرعی مارکیٹنگ کے نظام میں بہت سی خامیوں اور ناکاریوں کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے عوامل ہیں جو مارکیٹنگ کے نظام کی کارکردگی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیںجن میںتھوک منڈیوں کی کمی، فارم ٹو مارکیٹ، سٹوریج اور کولڈ چین نیٹ ورکس، ناکافی پروسیسنگ اور پیکجنگ کی سہولیات، کمزور زرعی مارکیٹنگ کی معلومات کا نظام شامل ہے۔
