ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ ہزاروں لوگ چھت سے محروم ہوےتو بھوک افلاس اوربیماریوں نے انہیں أگیرہ۔ وہاں کچھ ادارے غریبوں اور بے کسوں کے ساتھ فوٹو سیشن اور ڈرامہ بازی میں مشغول ہیں جسکی زندہ مثال گومل یو نیورسٹی کی انتظامیہ ھے مختلف گاڑیوں پر ریلیف کیمپ اور میڈیکل کیمپ کے پینا فلیکس لگا کر شہر کے مختلف علاقوں کا چکر لگا کر شہریوں اور میڈیا کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ گومل یونیورسٹی میں جن چند متاثرین خاندانوں کو رکھا گیا ھے انہیں دو وقت کا کھانا تک نہیں دیا جا رہا۔ وائس چانسلر شوبازی کرکے اور گاڑیوں کی ایک لمبی لائن بادشاہ سلامت اپنے ساتھ ریلیف کیمپ کے نام پر اپنے ساتھ لیے گھومتے ہیں یونیورسٹی انتظامیہ کی ایک اہم پوسٹ پر تعینات شخصیت نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ وائس چانسلر افتخار خان نے ریلف کیمپ اور میڈیکل کیمپ کے نام پر جعلی بلوں کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے ڈکارنے کا منصوبہ بنا رکھا ھے اس سلسلے میں چند میڈیا پرسن کو یونیورسٹی میں ملازمتیں دینے کا وعدہ بھی رکھا ھے گورنر خیبر پختون خواہ چیف سیکرٹری اور ہائر ایجوکیشن اس کی شوبازیوں اور فوٹو سیشن کے ذریعے قومی خزانے کے لوٹنے کو ناکام بنایے کیونکہ اسکی اس شوبازی پر ر وزانہ لاکھوں کےبل بنائے جارہے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب متاثرین سے گومل یونیورسٹی انتظامیہ کا مذاق
القمر
