کراچی:متحدہ ختم نبوت فورم پاکستان کے ہفتہء ختم نبوت کے سلسلے میں ایچ ایچ اسلامک اکیڈمی گلشن سرجانی میں منعقدہ ختم نبوت تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پاک امن ویلفیئر ایسوسی ایشن سعید احمدبیگ ۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماعلی حسن بروہی،علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے صوبائی آرگنائزر پیر سید ارشدحسین اشرفی،میزبان مفتی محمدحفیظ اللہ ہادیہ،متحدہ ختم نبوت فورم پاکستان کے بانی سیکریٹری جنرل فقیر ملک محمدشکیل قاسمی، محب وطن پاکستانی نوجوان آرگنائزیشن کراچی کے جنرل سیکریٹری محمداکبر خان ودیگر نے کہاہے کہ ۔
قادیانی آئین اور شریعت کی روسے غیرمسلم اقلیت ہیں ،اگر کوئی اس مسلمہ عقیدے کو نہ تسلیم کرتے ہوئے قادیانیوں کو کسی بھی قسم کی رعایت دلوانے کی بات کرتاہے تووہ شریعت سے انحراف کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان سے بھی غداری کا مرتکب ہورہاہے ۔
حکومت کو ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے، قائد ملت اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمدنورانی صدیقی ؒاور دیگر اکابرین نے 7ستمبر 1974ء کو منکرین ختم نبوت کو ایک طویل جدوجہد کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی سے متفقہ طورپر غیر مسلم اقلیت قراردلواکر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، اب کسی بحث مباحثے اور رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔
تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ قادیانی اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی اولین دشمن ہیں اور تحریک پاکستان سے لے کر اب تک اکھنڈبھارت کے حامی ہیں، حضورقائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمدنورانیؒ کاہم پر یہ احسان ہے کہ ۔
انہوں نے یہ بحث ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردی کہ قادیانی مسلمان ہیں کہ نہیںاور ان کو مسلمان کیوں نہیں ماناجاتایااگر یہ غیر مسلم ہی ہیں تو ان کو تبلیغ کا حق کیوں نہیں دیاجاتا۔
انہوں نے کہاکہ عقیدہء ختم نبوت واضح ہوچکاہے اب اس میں وضاحت مانگنے والے شریعت اور آئین پاکستان سے روگردانی کررہے ہیں۔
انہوں نیکہا کہ قادیانیت اسلام کے خلاف پیدا کئے جانے ولاے فتنوں میں ایک خطرناک ترین فتنہ ہے ۔ جس کی پرورش انگریز نے برصغیر کے مسلمانوں کو باہم لڑوانے اور جذبہ عشق رسول سے دور کرنے کیلئے کی۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ایک قادیانی فرد کی بطور وزیر خارجہ تقرری بھی قیام کے فوراً بعد پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کی مکروہ سازش تھی۔
انہوں نے کہا کہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں مسلمانان پاکستان کی قربانیاں تاریخ کا سنہراباب ہے۔فقیر ملک محمدشکیل قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1973 ء کے آئین کی اسلامی شقیں آئین پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اس وقت کی قومی اسمبلی کے تمام اراکین اور عملے کے وہ افراد جو قادیانیت کے خلاف قرارداد پیش ہونے سے لے کر منظور ہونے تک علماء کی معاونت کرتے رہے ۔
یقینا اس اُمت کے بہترین افراد ہیں۔ جنہوں نے علماء حق کی سرپرستی میں تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے اہم فریضے کو بخوبی انجام دیا۔سعید احمدبیگ نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر آج بھی پاکستان کی اسلامی شناخت برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
عاشقان رسول کی ذمہ داری ہے کہ وہ چوکنا رہیں اور وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیلئے مستعد رہیں۔پیر سیدارشدحسین اشرفی نے کہاکہ ۔
7ستمبر 1974ء تاریخ پاکستان کا وہ یاد گار دن ہے جس دن اسلامیان پاکستان کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی ؒ کی قرار داد پر پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے کر تحفظ عقیدہ ختم نبوت کی ایک تاریخ رقم کردی ۔
