عراق کی وفاقی عدالت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی این اے کے مطابق وفاقی عدالت کی جانب سے دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔
بیان میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ اگر کوئی حقیق جواز ہو تو اسمبلی خود ہی تحلیل ہو سکتی ہے۔
عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے لیے وفاقی عدالت میں تقریباً ایک ہزار درخواستیں دی گئی ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ عدالت میں درخواست گزاروں میں سے زیادہ تر صدر تحریک کے رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی ہیں۔
عراقی شیعہ مذہبی اور سیاسی رہنما صدر چاہتے ہیں کہ اسمبلی تحلیل کر دی جائے اور دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروپوں کا کہنا ہے کہ دوبارہ انتخابات کا فیصلہ سیاسی گروپوں کے درمیان آئینی معاہدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
