اسلام آباد ہائی کورٹ سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کے خلاف آج خاتون جج کو دھمکیاں دینے سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت کرے گی۔
عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا 5 رکنی بینچ کر رہا ہے، توقع ہے کہ سماعت 2بج کر 30 بجے تک شروع ہوگی۔
عمران خان کی متوقع عدالت آمد کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی جانب سے 20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق بیان پر توہین عدالت کے کیس میں 8 ستمبر تک عمران خان کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
31 اگست کو دیے گئے عدالت کے حکم کے مطابق سابق وزیر اعظم نے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوبارہ نیا تحریری جواب جمع کرا دیا تھا۔
عمران خان کی جانب سے 7 ستمبر کو دوبارہ جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ غیر ارادی طور پر بولے گئے الفاظ پر افسوس ہے، بیان کا مقصد خاتون جج کی دل آزاری کرنا نہیں تھا، اگر خاتون جج کی دل آزاری ہوئی تو اس پر افسوس ہے۔
سابق وزیراعظم نے اپنے جواب میں کہا کہ اپنے الفاظ پر جج زیبا چوہدری سے پچھتاوے کا اظہار کرنے سے شرمندگی نہیں ہوگی، عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا، تقریر کے دوران لفظ ‘شرمناک’ توہین کے لیے استعمال نہیں کیا، میرے الفاظ سے جج زیبا چوہدری کے جذبات مجروح ہوئے، اس پر گہرا افسوس ہے، غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے۔
انہوں نے اپنے جواب میں عدالت عالیہ سے وضاحت کو منظور کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں سابق وزیر اعظم نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی، عمران خان نے توہین عدالت کیس کے جواب میں افسوس کا اظہار کیا۔
31 اگست کو چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔
گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل حامد خان سے مکالمہ کیا تھا کہ جو جواب پڑھا مجھے اس کی توقع نہیں تھی، مجھے توقع تھی کہا جائے گا غلطی ہوئی ہے۔
عمران خان کے خلاف مقدمہ
خیال رہے کہ 20 اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس کا راستہ زیرو پوائنٹ سے ایف 9 پارک تک تھا، اس دوران عمران خان کی تقریر شروع ہوئی جس میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج صاحبہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کیا۔
ریلی سے خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنی کے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم تم کو چھوڑیں گے نہیں’۔
اس کے بعد انہوں نے عدلیہ کو اپنی جماعت کی طرف متعصب رویہ رکھنے پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ بھی نتائج کے لیے تیار ہو جائیں۔
منبع: ڈان نیوز
The post توہین عدالت کیس میں آج عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں آمد متوقع appeared first on شفقنا اردو نیوز.
