English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان ڈائری

القمر

ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی اپنے اپنے نیول آرمز اور استعدارکار میں اضافہ کرتے رہیں۔ پاکستان نیوی نے ساٹھ کی دہائی میں سب میرین کو اپنے بیڑے میں کمیشن کیا ہندوستان اسکے کافی سال بعد اپنی کلوری کلاس آبدوز اس خطے میں لایا۔اس ہی طرح حال میں بھارتی نیوی نے براہموس میزائل کو چنئی کے جنگی بحری بیڑے سے ٹیسٹ کیا انکی نیوی کے مطابق اس میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف پاکستان نے کثیر المقاصد ۰۵۴ ایلفا فریگیٹ پی این ایس تیمور اور پی این ایس طغرل کو اپنے بحری بیڑے کا حصہ بنایا۔پاکستان بحریہ اور چین کے درمیان میں ۲۰۱۸ میں معاہدہ ہوا اور جس کے تحت دو فریگیٹس پاکستان کو مل چکی ہیں اور دوابھی ملنا ہے۔ آج آئی این ایس وکرانت ہندوستان بھارتی بیڑے کا حصہ بن گیا۔ ایسے ائیر کرافٹ کیرئیر سپر پاور استعمال کررہی ہیں جن میں امریکہ اور چین نمایاں ہے۔ ہندوستان عالمی طاقتوں سے مقابلہ چاہتا ہے اور انڈین اوشین اور بحریہ عرب میں اپنی اجارداری کا خواہش مند ہے۔ اس کی بھارتی نیوی میں شمولیت کی تقریب میں ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی مہمان خصوصی تھے۔

آئی این ایس وکرانت ہے کیا ؟

یہ ائیر کرافٹ کرئیر ہے یہ مین آف وار کے لئے ایک بیس کا کام کرتا ہے۔ مین آف وار بہت سی ٹائپ

 کے ہوتے ہیں میں ڈس ٹرائیرز فریگیٹس کروزرز سب میرین کوروٹس گن بوٹس مائن ہنٹرز جنگی جہاز اور او پی ویز ہوتے ہیں اس بیس میں تمام جہازوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے جن میں لڑاکا طیارے شامل ہیں ان کی فیولنگ کی جاتی ہے پائلٹس کی ٹرینگ ہوتی اور جنگ کی صورت میں یہاں سے ہی آپریشن شروع ہوکئے جاتے ہیں۔ جیسے زمین پر ائیر بیس عمومی طور پر کام کرتی ہے ویسے ہی طیارہ برادر جنگی بحری جہاز سمندر میں کام کرتا ہے۔ ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز میں عملہ ہوتا  ہے ، جنگی جہاز، دیکھ بھال کا اسٹاف ، کریو ممبر یہ ایک ایسا جہاز ہے جس کو لے کر آپ  سمندر میں رہتے ہیں اور اپنے اہداف حاصل کرتے ہیں۔ ان نیوی کے جہازوں سے نا صرف نیوی بلکے ائیر فورس بھی اپنے اہداف حاصل کرتی ہے۔ جمعے کے روز این این آئی ایس وکرانت کو ہندوستانی نیوی میں کمیشن کیا گیا۔

وکرانت ایک فلوٹنگ بیس ہے جو کوچین شپ یارڈ پر تیار ہوا اس میں ۱۷۰۰ سے زائد عملہ اپنے فرائض انجام دے گا جن میں خواتین بھی شامل ہیں اور یہاں پر ایک اسکواڈرن اپنے جنگی جہازوں کو پارک کرسکے گا۔وکرانت میں ۲۲۰۰ کمپارٹنمٹس ہیں۔ اس میں اے ایل ایچ ہیلی، ایل سی اے کے ساتھ مگ ۲۹ کو پارک کیا جاسکے گا۔ دفاعی تجزیہ نگار کرنل  شاہ لندر سنگھ کہتے ہیں یہ ہندوستان میں تیار کیا گیا اس میں ۵۰۰ کمپینوں نے حصہ لیا۔۲۶۲ میٹر لمبا اور ۶۴ میٹر چوڑا جہاز ہے بیس سے تیس ناٹس کی اسپیڈ اس پر مگ ۲۹ سمیت ۳۰ جہاز پارک ہوسکتے ہیں۔اس پر براک میزائل نصب ہوسکتے ہیں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے یہ جہاز دنیا میں صرف چند ممالک کے پاس ہے۔ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ائیرکرافٹ کرئیر کی ضرورت سب ملکوں کو نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں میرا ماننا کہ مضبوط نیوی ہر کسی کا حق ہے اور ہم جلد تیسرا ائیرکرافٹ کرئیر بنائیں گے۔ وہ کہتے ہیں اس جہاز سے سمندری جرائم کا بھی خاتمہ بھی کیا جائے گا کہ سمگلنگ یا بحری قذاقوں کا خاتمہ کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں ایک اور ائیر کرافٹ کرئیر ہمیں خلیج بنگال میں چاہیے۔

رنجیت کمار سئنر صحافی ہیں وہ کہتے ہیں کہ انڈین اوشین میں جس طرح سے بڑی طاقتوں کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے اس لئے ناگزیر تھا کہ ہندوستان دوسرا ائیر کرافٹ کرئیر اپنے فیلیٹ میں شامل کرے۔ اس کی تیاری دو دہائیوں میں مکمل ہوئی انڈین نیوی انڈین اوشین پر اپنا رعب اور دبدبا چاہتی ہے یہ جہاز اس میں معاون ہوگا۔ انڈیا کا اس وقت مین فوکس چین ہے کیونک چین کے جہاز اکثر انڈین اوشین میں آجاتے ہیں وکرانت کی مدد سے ان کی نگرانی کرنا آسان ہوگی۔

کیا آئی این ایس وکرانت پاکستان کے لئے خطرہ ہے ؟

ہنگور ڈے کے ہیرو ایڈمرل ر تسنیم کہتے ہیں ہندوستان چین کے مدمقابل آنا چاہتا لیکن ابھی وہ دور دور تک انکی برابری نہیں کرسکتا۔ہندوستان سمندر پر حکومت کرنا چاہتا ہے اس لئے انہوں نے یہ ائیر کرافٹ کیرئیر اپنی نیوی میں شامل کیا۔ پاکستان سے پہلے وہ چین کو اس سے پیغام دینا چاہتا ہے۔ وہ کہتے ہیں اس فلوٹنگ بیس میں ان کے پاس اینٹی سب میرین ہیلی ہونگے اور یہ ائیر کرافٹ کرئیر اپنئ لوکیشن تبدیل کرسکتا تو یہ پاکستان کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ائیر کرافٹ  کرئیر موجود نہیں ہے اس لئے ہمیں متبادل چیزوں پر توجہ دے کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا جس میں ہمیں سب میرین فورس پر مزید توجہ دینا ہوگی جس میں زیر آب ہتھیار میزائل سے سب میرین فورس کی استعداد کار کو بڑھنا ہوگا۔

۱۹۷۱ کی جنگ میں پاکستان کی آبدوز ہنگور نے ہندوستان کی ایک جہاز کرپان کو تباہ کیا اور دوسرے جہاز ککری کو مفوج کردیا۔کرپان پر ان بورڈ تمام ہندوستانی عملے ہلاک ہوگیا تھا۔

پاکستان کی سب میرین فورس پاکستان کے دفاع کا ایک مضبوط حصہ ہے۔یہ فورس پاکستان کے دفاع میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہےیکم مارچ ۲۰۲۲ کو

ہندوستان کی کلوری کلاس سب میرین کو ٹریک کیا اور اس کو پیش قدمی سے روک دیا۔اس وقت پاکستانی پانیوں میں سی سپارک مشقیں ہورہی تھیں۔یہ سب میرین ان مشقوں کی جاسوسی کے لئے ٓآئی تھی۔یہ بھارتی آبدوز پاکستان سے ستر ناٹیکل میل کے فاصلے پر تھی اور یہ بین الاقوامی حدود کی خلاف ورزی تھی۔ یہ سب میرین بیڑی کو چارج کرنے کے لئے سطح پر آئی اور پکڑی گئ،

پاکستان نیوی نے اس حوالے سے ویڈیو ریلیز کی پاکستان نیوی چاہتی تو اس سب میرین کو تباہ بھی کرسکتے تھے لیکن پاکستان جارحیت کا حامی نہیں ہے۔ سمندر میں پاک نیوی کے اہلکار جن کو نیول ہواباز کہا جاتا ہے ان کے طیارے اور ہیلی ہر وقت چوکس رہتے ہیں۔ ۲۹ اسکواڈرن پی تھری سی اورین پر مشتمل ہے جوکہ لانگ رینج میری ٹائم اسکواڈرن کہلاتا ہے۔ یہ اے ایس ڈبلیو یعنی دشمن کی آبدوز کو سرچ کرنے اور نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہےاس ہی طرح اسکواڈرن ۲۹ سی سلطان کہلانے والے اے ٹی آر جہاز جوکہ حال ہی میں نیوی کا حصہ بنے یہ جہاز آبدوز کو نشانہ بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اسں ہی طرح چینی ساختہ ہیلی زی ۹ای سی اینٹی سب میرین جہاز ۲۲۲ اسکواڈران کا حصہ بنے ہیں اور ۲۴ جنوری کو ڈبلیو ایس سی کنگ ۶۱ ہیلی بھی پاک بحریہ کا حصہ بنےہیں۔اس کے ساتھ یو اے ویز بھی مسلسل سمندر کی نگرانی کرتےہیں۔

یکم مارچ سے قبل بھی پاک بحریہ تین بار ہندوستانی سب میرین کو ٹریک کرچکے تھے۔۱۴ نومبر ۱۶ کو بھارتی نیوی کی ۲۰۹سب میرین پوسٹ اڑی ٹریک ہوئی۔ ۴ مارچ ۱۹ بھارتی نیوی کلوری کلاس سب میرین کو پلوامہ واقعے کے بعد پاکستانی پانیوں میں ٹریک کیا گیا۔۱۶ اکتوبر ۲۰۲۱ میں ایک بار پھر کلوری کلاس سب میرین کو ڈیٹیکٹ کیا گیا۔ دونوں ممالک کے باڈر ملتے ہیں تو دونوں پہلے ہی چوکنے رہتے ہیں ویسے تو پاکستان جارحیت کا خواہش مند نہیں لیکن اس کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ اس کی ائیر فورس اور نیوی جنگ کی صورت میں جہاز برادر جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے