English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدالت نے عمران خان کیساتھ نرمی دکھائی لیکن انہوں نے موقع ضائع کردیا: قانونی ماہرین

القمر

ممتاز قانونی ماہرین جسٹس (ر) رشید اے رضوی، جسٹس (ر) ناصرہ اقبال، جسٹس (ر) شاہ خاور اور ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کے مطابق عدالت نے عمران خان کے ساتھ بہت نرمی دکھائی اور انہیں معاملے کی سنگینی کا بار بار احساس دلایا مگر انہوں نے موقع ضائع کیا۔

جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ” میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عدالت کا رویہ عمران خان کے ساتھ نرم تھا اور انہیں موقع بھی دیا گیا مگر بدقسمتی سے ان کا جواب قانونی نہیں سیاسی فیصلہ لگتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بار بار بتایا کہ آپ کا معاملہ کریمنل توہین عدالت کا ہے اور یہ سب سے سنگین نوعیت کی توہین عدالت سمجھی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب عدالت بادی النظر میں اپنا نظریہ بنا لیتی ہے کہ جو کہا گیا وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے تو پھر اس وقت بہترین عمل تو یہی ہوتا ہے کہ معاملے کو اختتام کی جانب لے کر جایا جائے لیکن عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا۔ عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں یا ندامت کا اظہار کریں لیکن ان کو قانونی نہیں بلکہ سیاسی مشورے دیئے گئے۔

جسٹس (ر) رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ میں پہلے دن سے یہی بات کہہ رہا ہوں کہ عدالت نے ماضی کی طرح عمران خان کیساتھ بڑا نرم رویہ اختیار کیا۔ لیکن عمران خان شاید اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے۔

پروگرام کے دوران اپنا قانونی نقطہ نظر بتاتے ہوئے جسٹس (ر) رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان کے وکلا ان کو ایسے مشورے دے رہے ہیں بلکہ یہ ان کے اپنا ذاتی فیصلہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے عدالت سے معاملے پر معافی مانگنے کی بجائے عذر پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے