صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائریکٹر فخر الدین آلتون نے کہا کہ ترکی دہشت گردی کی لعنت سے بڑی حد تک بچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب ملک میں دہشت گرد تنظیم کا نام ن لینے والا کوئی نہیں ہے۔
آلتون نے ان خیالات کا اظہار دارالحکومت انقرہ میں صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائریکٹوریٹ کانفرنس ہال میں ایوان صدر اور سیاسی، اقتصادی اور سماجی ریسرچ فاؤنڈیشن (SETA) کے زیر اہتمام "خاموش مزاحمت کی علامت: دیار باقر کی مائیں ” کے سمپوزیم کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
فخر الدین آلتون نے کہا کہ اب ہم دہشت گرد تنظیم کے نام نہاد سرغناوں کو ان کے اپنے مقامات پر جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں بھی غیر فعال بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اس وقت، دہشت گرد تنظیم کافی حد تک اپنا اثر و رسوخ کھو چکی ہے۔
فخر الدین آلتون نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاص طور پر گزشتہ 20 سالوں میں حاصل کی گئی کامیابیوں سے ترکی نے دہشت گردی کی اس لعنت سے کافی حد تک چھٹکارا حاصل کر لیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک صدر کی ‘دہشت گردی کو اس کے منبع پر ختم کرنے’ کی حکمت عملی کے ساتھ، ہماری سیکورٹی فورسز نے ہماری سرحدوں کے اندر اور باہر ایک موثر اور پرعزم جدوجہد کی ہے، اور وہ یہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تنظیم اب ترکی میں اپنا نام و نشان کھو چکی اور دہشت گرد بیرون ملک میں آباد ہیں جہاں ہم تنظیم کے سرغنہ کو ایک ایک کر کے غیر فعال کررہے ہیں۔
دیار باقر کی ماؤں کے بارے میں، جن کے بچوں کو علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK نے اغوا کیا تھا، التون نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ان لوگوں کی جدوجہد ایک دور کا خاتمہ کرے گی، دہشت گرد تنظیم کا خاتمہ کرے گی اور ترکی کے امن کے ماحول کو مضبوط کرے گی۔
