روس نے یورپی یونین کے ممالک کو یوکیرین سے برآمد کردہ اناج کو غریب ممالک بھیجے جانے کا ثبوت پیش کرنے والے ایک لاجسٹک جدول کو شائع کرنے کی اپیل کی ہے۔
دفترِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاہارووا نے ہفتہ وار پریس کانفرس میں یوکیرین سے اناج کی ترسیل اور اناج معاہدے کے بارے میں بعض بیانات دیے۔
یوکیرین سے اناج کی ترسیل کیے جانے والے ممالک کے بارے میں مغربی ممالک اور روس میں زیر لب لائے جانے والے مختلف اعداد و شمار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں زاہارووا نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ مذکورہ اناج کی یورپی یونین کے رکن ممالک کو پہنچنے کے بعد یہاں سے غریب ممالک کے طور پر صنف بندی کردہ ایشیا ئی اور افریقی ممالک کو ان کی ترسیل ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر ایسا ہے تو انہیں اس چیز کو آشکار کرنا ہو گا، مثال کے طور پر بحری جہاز اٹلی پہنچنے کے بعد جہاز سے کتنا اناج اس ملک کو اور کتنا دوسرے ممالک کو بھیجا گیا ہے اس کےلاجسٹک اعداد و شمار کو تیار کرنا ایک آسان کام ہے ۔
ظہارووا نے تجویز پیش کی کہ اس لاجسٹک جدول کے علاوہ، اس قسم کے لاجسٹکس سے نمٹنے والے امریکی آپریٹرز کی آمدنی پر مشتمل ایک جدول شائع کیا جانا چاہیے جو مختلف ممالک میں دوبارہ تقسیم کرتے ہیں۔
