ترکیہ کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شَن توپ نے اس بات پر زور دیا کہ 24 فروری کو شروع ہونے والی روس-یوکرین جنگ کے طول سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی، اور کہا کہ ترکیہ امن کی بھر پور کوششیں صرف کررہا ہے۔
مالڈووا کا سرکاری دورہ کرنے والے شَن توپ اور ان کے ہمراہی پارلیمانی وفد نےصدر مایا سانڈو سے ملاقات کی ہے ۔
ترکیہ نئی قسم کے کورونا وائرس (کوویڈ-19) کی وبا اور یوکرین میں جنگ کے دوران مہاجرین کی آمد کے دوران مالڈووا کے ساتھ یکجہتی کو بڑی اہمیت دے رہا ہے۔
شَن توپ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں پیش رفت اپنے ساتھ نئے مسائل اور چیلنجز لے کر آئی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ملک ترکیہ مالڈووا پر مہاجرین کے دباؤ کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔
شَن توپ نے کہا کہ ترکیہ کی طرف سے انسانی امداد مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
شَن توپ نے کہا کہ ترکیہ روس یوکرین جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کے طور پر دیکھتا ہے۔
ترکیہ کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ جنگ کو طول دینے سے حالات مزید خراب ہوں گے، اور شہری آبادی کو نقصان پہنچے گا۔ ہمارا ملک امن کے لیے کوشاں ہے۔ ہم اس موقف کو برقرار رکھیں گے اور آنے والے مراحل میں اپنے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
