روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یوکرین کی انتظامیہ نے روس کے ساتھ مذاکراتی عمل کو مسترد کر دیا ہے اور وہ میدان جنگ میں فوجی ذرائع سے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
کریملن کے بیان کے مطابق، پوتن نے ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے ایک حصے کے طور پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔
میٹنگ کے آغاز میں بات کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ وہ یوکرین کے تنازع کے حوالے سے ہندوستان کے موقف اور خدشات کو جانتے ہیں۔
یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ وہ تنازعات کو جلد از جلد روکنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، پوتن نے کہا،”تاہم، بدقسمتی سے، دوسری طرف، یوکرین کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو مسترد کرتی ہے اور وہ میدان جنگ میں اپنے مقاصد کو فوجی ذرائع سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔”
دوسری جانب پوتن نے ایس سی او سربراہی اجلاس کے بعد روسی پریس کو بیانات دئیے۔
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یوکرین کی فوج کی جوابی کوششوں کے باوجود ان کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور کہا کہ "دونباس میں ہماری فوجی کاروائیاں رکیں نہیں اور یہ بدستور جاری رہیں گی۔ ہماری فوجیں سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہیں، لیکن روسی فوج آہستہ آہستہ مسلسل نئے علاقوں پر قبضہ کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کئی دہائیوں سے سوویت یونین، تاریخی روس اور آج کے روس کی زوال پذیری کے تصورپر مغربی ممالک میں مسلسل کام کیا جا رہا ہے اور روس توڑنے کے لیے یوکرین کو استعمال کرنے کا تصور منظر عام پر آیا۔
اسی لیے یوکرین میں ’خصوصی فوجی آپریشن‘ شروع کرنے کا ذکر کرنے والے پوتن نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک کا مقصد یوکرین کو روس مخالف زون میں تبدیل کرتے ہوئے ان کے لیے خطرات پیدا کرنا ہے۔
