ایران کی افواج نے کہا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ’دشمن کا مقابلہ‘ کریں گے جیسا کہ ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں خاتون کے قتل پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں تیزی آئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے کہا ہے کہ ’اس طرح کے پریشان کن حالات اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کی چال کا حصہ ہیں۔‘
ایران میں اس وقت عوامی سطح پر مظاہرے شروع ہوئے جب گزشتہ ہفتے ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں غیر موزوں لباس پہننے پر گرفتار 22 سالہ نوجوان خاتون مہسا امینی ہلاک ہوگئی تھیں۔
ایران کی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ آج ملک میں حکومت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
درین اثنا ایران میں مقیم نیویارک کے انسانی حقوق کے گروہ نے کہا کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائی میں کم از کم 36 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
سرکاری سطح پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 17 بتائی گئی جن میں 5 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں تاہم ایران میں کام کرنے والے سینٹر فار ہیومن رائٹس ایران (سی ایچ آر آئی) کا کہنا ہے کہ ان کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔
سی ایچ آر آئی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ حکام نے اعتراف کیا کہ ایران میں جاری احتجاج کے ساتویں دن 17 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک افراد کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔
سی ایچ آئی آر نے کہا کہ ہلاکتوں میں اضافے کی توقع ہے، دنیا کے رہنماؤں کو ایران پر زور دینا چاہیے کہ ملک میں جاری احتجاج کو کسی طاقت کے استعمال کے بغیر جاری رہنے دیں۔
سی ایچ آئی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین پر براہ راست فائرنگ، پیلٹ گنز، آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جہاں مظاہرین خون میں لت پت دکھائی دے رہے ہیں۔
مظاہرین کی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصاویر کو نذرِ آتش کیا جارہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنان نے کہا کہ جواب میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر شیل، دھات کے بنے چھرے، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
#IranProtests: People demonstrating on Keshavarz Blvd. in Tehran, chanting “They’re lying: our enemy is here, not the US!” #مهسا_امینی #MahsaAmini #IranRevolution pic.twitter.com/kt6hLl1Qt0
— IranHumanRights.org (@ICHRI) September 22, 2022
