ایران میں ایک 22 سالہ خاتون کی حراست کے بعد موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں سرکاری ٹیلی ویژن نے ہلاکتوں کی تعداد 26 بتائی ہے۔
13 ستمبر کو دارالحکومت تہران میں "اخلاقی پولیس” کے نام سے جانے جانے والے ارشاد گشتی اہلکاروں کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد کوما میں جانے اور ہسپتال میں داخل ہونے والی مہسا امینی کے 16 ستمبر کو انتقال کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے ملک کے کئِ شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔
اگرچہ ایرانی حکام نے مظاہروں کے دوران ریکارڈ کیے گئے جانی نقصان کے بارے میں واضح معلومات نہیں دی، لیکن سرکاری ٹیلی ویژن نیوز ریڈر نے آن ایئر خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ان واقعات کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
نیوز ریڈر نے کہا کہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد کا اعلان سرکاری حکام کریں گے۔
ملکی میڈیا سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں صحافیوں، سیاسی اور سول کارکنوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اگرچہ مظاہروں میں ہلاک، زخمی اور حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اطلاع نہیں ہے، تاہم حکام کی جانب سے مختلف اوقات میں دیے گئے بیانات کے مطابق مظاہروں کے دوران 6 سیکیورٹی گارڈز سمیت کم از کم 17 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
جبکہ نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے اعلان کیا کہ صوبہ ریزوی خراسان کے شہر کوشان میں ہونے والے واقعات کے دوران ایک افسر کی موت واقع ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے ان واقعات کے بارے میں تحریری بیان جاری کیا۔
پولیس اور سیکورٹی فورسز کی حمایت کرنے والے بیان میں مظاہروں کو "دشمنوں کی سازش” قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج دشمنوں کی مختلف سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، اور دشمنوں کو کبھی بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
13 ستمبر کو تہران میں "اخلاقی پولیس” کے نام سے جانے جانے والے ارشاد گشتی دستوں کے ہاتھوں حراست میں لینے کے بعد ہسپتال میں کوما میں جانے والی ایمنی 16 ستمبر کو انتقال کرگئی۔ ایمنی کی آخری رسومات کے بعد، جو 17 ستمبر کو اس کے آبائی شہر ساکز میں ادا کی گئی جس پر ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
