کراچی :امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کےالیکٹرک کا معاملہ پورے شہر کے تین کروڑ لوگوں کا ہے،کے الیکٹرک کے ناجائز بلز کے خلاف جماعت اسلامی کے عوامی ریفرنڈم میں وکلا بھی شامل ہو گئے ۔
سٹی کورٹ میں وکلا کا ریفرنڈم میں شامل ہونے پر سٹی کورٹ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ کل ریفرنڈم کا آخری دن ہے، وکلا برادری ہمارے کیسز میں شامل ہوکر عوام کی ترجمانی کریں ،عدالت سے اس شہر کو ریلیف ملا ہے،جماعت اسلامی ٹیکس کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جون اور جولائی میں وصولی کی گئی،کے الیکٹرک 153 ارب ایس ایس جی سی کی نادہندہ ہے ،آر ایل این جی کی مد میں کے الیکٹرک نے ترپن ارب ستمبر میں ادائیگی گی ،کراچی کے شہریوں سے جولائی اور اگست میں رقم وصولی کی گئی
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کا معاملہ پورے شہر کے تین کروڑ لوگوں کا ہے،اوور چارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں غیر قانونی چارجز وصول کئے جارہے،لائن لاسز اور خراب پاور پلانٹ کا ملبہ بھی عوام پر ڈالا گیا ہے،عوام کو بتائیں گے کے الیکٹرک نے کس طرح یرغمال بنایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت پریشان ہے ،صوبائی اور وفاقی حکومت کراچی کو کچھ دینے کو تیار نہیں ،موٹر وہیکل ٹیکس اور انفراسٹرکچر ٹیکس کراچی کے شہریوں سے وصول کئے گئے اس ٹیکس سے کراچی کو کچھ نہیں ملا، مرتضی وہاب بتائیں انکی پارٹی نے شہر کو کیا دیا ہے ان سے جہانگیر روڈ کا پوچھیں تو ناراض ہوجاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک مافیا کے ساتھ کے ایم سی مافیا بھی شامل ہے ،مرتضی وہاب بتائیں پیسے کے ایم سی کے اکاونٹ میں کیوں نہیں آئے ،شہر کو کچھ دے نہیں رہے اور ٹیکس پر ٹیکس لگا رہے ہیں، گزشتہ پندرہ سال سے پیپلزپارٹی سندھ پر حکومت کررہی ہے ،ہر کراچی ترقی کے بجائے کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، نعمت اللہ خان کے دور میں بغیر کوئی ٹیکس لگائے تعمیراتی کام کروائے گئے۔
