English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سیلاب متاثرین کے کیمپوں میں بچے خطرناک بیماریوں کا شکار

القمر

لاہور: پاکستان میں آنیوالے تاریخ کے بدترین سیلاب نے جہاں بڑے پیمانے پرتباہی مچائی ہے اورسینکڑوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں وہیں اب متاثرہ علاقوں میں بچوں کے لئے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ بچے خطرناک بیماریوں کاشکارہورہے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ابتک سیلاب اوربارشوں سے 579 بچوں سمیت 1606 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ میں بچوں کے ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس سال مون سون میں شدید بارشوں ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ، جن میں تقریبا ایک کروڑ 60لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

 پنجاب کے ضلع راجن پورکی تحصیل روجھان سے تعلق رکھنے والے محمدابراہیم ایک خیمہ بستی میں مقیم ہیں۔ ان کا گھرنواحی علاقے بستی لاشاری کے قریب ہے۔ ان کے چھ بچے تھے جن میں ایک پانچ سالہ کلیم اللہ بخار اورپیٹ کی بیماری کی وجہ سے چندروزقبل فوت ہوگیا ۔

 انہوں نے اپنی بیوی اور تین چھوٹے بچوں کو واپس اپنی بستی میں بھیج دیا ہے جہاں پانی اترنے کے بعد لوگوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے تاہم وہ خود اپنے دوبڑے بچوں کے ساتھ یہاں خیمہ بستی میں ہی رہتے ہیں یہاں سے ملنے والی امداد لیکروہ بستی میں اپنے خاندان کو دیکر پھرواپس یہاں لوٹ آتے ہیں۔ محمدابراہیم نے بتایا ایک طرف توسیلاب نے ان کا گھر،فصلیں تباہ کردیں، ان کی زندگی بھرکی جمع پونجی ضائع ہوگئی اوردوسری طرف بیماری کی وجہ سے ان کا بیٹا بھی ان سے جداہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے