کراچی:سندھ ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے متنازع میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اینڈ ٹیکسز (ایم یو سی ٹی) کی بجلی کے بلوں میں کے الیکٹرک کے ذریعے وصولی کو چیلنج کرنے والی ایک اور درخواست پر وفاقی، صوبائی حکومت اور لوکل گورنمنٹ اتھارٹیز کو نوٹس جاری کردیئے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، چیف سیکریٹری کے ایم سی سندھ نے کے الیکٹرک کے ذریعے میونسپل ٹیکس کی وصولی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل آیا تھا اور اس فیصلے کو گزشتہ ہفتے جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن اور دیگر نے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، سٹی ایڈمنسٹریٹر اور کے الیکٹرک کو فریق بناتے ہوئے درخواست دائر کی تھی۔
ملکی آئین پاکستان کے تمام اداروں کے دائرہ اختیار کو واضح کیا گیا ہے۔ مرتضیٰ وہاب کا شکوہ ہے کہ میں نے دن دیکھا اور نہ رات دیکھی بس کام کیا، جس بلدیہ عظمی کے لیے کہا گیا کہ اس کے پاس اختیارات نہیں اسی نے کام کیا لیکن میری پذیرائی نہیں کی گئی۔
منگل کے روز سماعت کے دوران تو ان کے وکیل عثمان فاروق نے کہا کہ موجودہ درخواست کے ایم سی کی جانب سے بجلی کے بلوں کے ذریعے ایم یو سی ٹی کی وصولی کے فیصلے سے متعلق تنازع کے حوالے سے دائر کی گئی ۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت پہلے ہی 26 ستمبر کو اسی طرح کی درخواست پر عبوری حکم امتناعی جاری کر چکی ہے جس میں کے ایم سی کی جانب سے صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے ایم یو سی ٹی وصول کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ نے کے ایم سی کو کے الیکٹرک کے ذریعے میونسپل ٹیکس کی وصولی سے روک دیا تھا۔ دوران سماعت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
عدالت نے ان سے استفسار کیا تھا کہ کے الیکٹرک کے بلوں میں کیوں وصول کر رہے ہیں؟ شہری نہ دیں تو ان کی بجلی کٹ جائے۔ کے ایم سی کے پاس طریقہ کار موجود ہے۔ کے الیکٹرک کی گاڑیوں پرکچرا پھینکا جا رہا ہے۔ کے ایم سی کا اپنا ریکوری سیل ہے جو وصولی کرے۔ مرتضی وہاب نے عدالت کو بتایا کہ کے ایم سی کا کام شہر میں کام کرنا ہے پارک بنانا ہے۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد مرتضیٰ وہاب نے ہنگامی پریس کانفرنس کی۔
وہ عدالتی فیصلے پر ناراض نظرآئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی ٹیکس کے پیسے میری جیب میں نہیں کے ایم سی کے اکاؤنٹس میں آتے ہیں، کے الیکٹرک کے پاس رقم آنے کا چیک اینڈ بیلنس بہت اچھا ہے، 100 روپے بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوتے اسی لیے یہ ٹیکس جمع کرنے کا ٹھیکا پرائیویٹ کرنے کے بجائے کے الیکٹرک کو دیا اور انہیں بہت مشکل سے راضی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کے ای پرائیویٹ کمپنی ہے اور اس کے پاس صرف بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی حد تک لائسنس موجود ہے، وزارت توانائی اور کے الیکٹرک کے درمیان معاہدہ میں مختلف چارجز اور ٹیکس کی وصولی کے بارے میں نہیں تھا۔
درخواست گزاروں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری کے بعد چیف سیکریٹری نے 21 جنوری کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں صوبائی محکمہ توانائی اور کے ایم سی کو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ (ایس ایل جی اے) 2013 کے تحت ایم یو سی ٹی کی وصولی کے لیے کے ای کا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، اس نوٹیفکیشن کی تعمیل کے سلسلے میں ہی صوبائی حکومت نے 12 اپریل کو ایک اور نوٹیفکیشن جاری کیا۔
