کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ اب کراچی کے سارے فیصلے کراچی کے منتخب میئر کو کرنے چاہئے، کراچی میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کو آگے بڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے ،یہ الیکشن مزاق نہیں ہیں یہ ہماری زندگی کا مسئلہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کی عوامی ریفرنڈم چھٹے اور آخری روز مکمل ہونے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ادارہ نورحق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہو کہا کہ فاضل جج نے کے ایم سی کو ٹیکس لینے سے روک دیا ہے،یہ کراچی کی ایک بڑی کامیابی ہے،اس وقت عوامی ریفرنڈم جاری ہے،اب تک لوگوں کی رائے کے مطابق عوام کو کے الیکٹرک نہیں چاہئے،لوگ اسکا لائسنز کینسل کروانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام بلدیاتی ادارےحکومت سندھ کے قبضے میں ہیں، پیپلز پارٹی سب سے زیادہ قبضہ سسٹم رکھتی ہے،عوام کے مسائل پر کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، کراچی میں الیکشن کروانے سے مراد علی شاہ کیسے روک سکتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں فیول افجسٹمنٹ چارجز کو ختم ہونا چاہیئے، ہم عوام کی رائے عدالت کے سامنے پیش کریں گے،آج ریفرنڈم کا آخری دن ہے تو عوام بڑھ چڑھ کر اپنے رائے دیں ۔
انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب عدالت کے فیصلے پر غلط فہمی پیدا کر رہا ہے، اتنا سب ہونے کے بعد انہیں ویسے استعفی دے دینا چاہئے اس میں مظلوم بننے کی کیا ضرورت ہے، آپ جس اختیار کا رونا رو رہے ہیں وہ آپکی پارٹی کھا رہی ہے،مرتضی وہاب تین ارب روپوں کے لئے آنسو بہا رہے ہیں، انفرا اسٹرکچر میں 80 بیلین ڈالر کی انکم ہوئی ہے،موٹر وہیکل ٹیکس صوبائی حکومت لیتی ہے،بل بورڈز کے جو پیسے آتے ہیں وہ کہاں ہیں ؟۔
