قومی سلامتی کونسل (MGK) نے کہا کہ ترکیہ کے حقوق اور مفادات کا تحفظ قانون کے دائرے میں کیا جائے گا۔
قومی سلامتی کونسل کا اجلاس صدر رجب طیب ایردوان کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یونان کے حال ہی میں بڑھتے ہوئے اشتعال انگیز اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم یونان کی فضول کوششوں کے خلاف اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے جائز طریقے اور ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ حلقے جو یونان کو جزائر کو غیر فوجی حیثیت سے مسلح کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں عقل سلیم سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
بیان میں، جس میں جنوبی قبرص پر ہتھیاروں کی پابندی اٹھانے کے لیے امریکہ (USA) کے فیصلے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے امریکہ سے اتحاد کی روح کے خلاف اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قبرصی ترکوں کے حقوق کے دفاع کی سرگرمیوں کو عزم کے ساتھ جاری رکھا جائے گا، بیان میں تمام ممالک سے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی آزادی کو تسلیم کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
