سویڈش اسٹیٹ آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایجنسی (آئی ایس پی) نے اعلان کیا کہ انہوں نے ترکیہ کو اسلحے کی برآمد پر عائد پابندی ہٹالی ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کو دوبارہ برآمدات کی اجازت دینے کا فیصلہ سویڈن کی جانب سے نیٹو کو دی جانے والی درخواست کی وجہ سے کیا گیا ۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ فیصلہ الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کے ساتھ ساتھ فوجی ہتھیاروں اور آلات کے لیے بھی درست ہے۔
آئی ایس پی کے صدر کارل ایورٹسن نے 29 مئی کو ایکسپریسن اخبار کو نیٹو کی رکنیت کے لیے سویڈن کی درخواست پر تر کیہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سویڈش دفاعی کمیشن کی درخواست کردہ شرائط کے تحت ہتھیار برآمد کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکی کو اس وقت ہمارے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ہم سے ہتھیار نہیں خریدتے ہیں۔ ہم دفاعی کمیشن سے درخواستوں کا ہر صورت میں جائزہ لیتے ہیں۔ ہم آج کے حالات میں ترکی کو ہتھیار فروخت کر سکتے ہیں۔
ایورٹسن نے اس سوال کا جواب دیا کہ سویڈش ساختہ اینٹی ٹینک AT-4 ہتھیار علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے ہاتھ میں کیسے آئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان ہتھیاروں کو تنظیموں کو برآمد نہیں کرتے۔ یہ ہتھیار بھی امریکہ کے لائسنس کے تحت تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں تیسرے ممالک کو بھیجنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس بارے میں ہماری عدم توجہ یا ہماری ناکامی ہو سکتی ہے۔
ISP نے 15 اکتوبر 2019 کو ترکیہ کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔
سرکاری ریڈیو ایس آر کی خبر کے مطابق اس تاریخ کے بعد سویڈن کی 3 نجی اسلحہ ساز کمپنیوں کی ترکیہ کو ہتھیار فروخت کرنے کی درخواست قبول نہیں کی گئی۔
