English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شمالی کوریا کا طویل ترین فاصلے کے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

القمر

جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا نے پہلے سے کہیں زیادہ طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جس نے 5 سال میں پہلی مرتبہ جاپان کے اوپر پرواز کی جس کی وجہ سے وہ اپنے رہائشیوں کو پناہ لینے کی وارننگ جاری کرنے پر مجبور ہوگیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سال 2017 کے بعد سے یہ شمالی کوریا کا پہلا میزائل تھا جو اس راستے پر مارا گیا جس کا فاصلہ اندازاً 4 ہزار 600 کلومیٹر تھا جو شمالی کوریا کے میزائل تجربوں میں سب سے طویل فاصلے کا ہوسکتا ہے۔

میزائل تجربے پر جاپانی حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ پناہ لیں اور ملک کے شمالی حصے میں ٹرین کی کچھ سروسز کو اس وقت عارضی طور پر معطل کر دیا جب میزائل بحر الکاہل میں گرنے سے پہلے اس کے علاقے کے اوپر سے گزرا۔

یہ خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے کا تازہ ترین واقعہ تھا، اس سے قبل ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز نے 2018 کے بعد 23 ستمبر کو پہلی بار جنوبی کوریا میں پورٹ کال کی، اور شمالی کوریا نے 10 دنوں میں پانچ میزائل داغ دیے۔

اس عرصے میں امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ مشقیں اور امریکی نائب صدر کملا ہیرس کا خطے کا دورہ بھی ہوا جنہوں نے کوریا کے درمیان مضبوط سرحد پر کھڑے ہو کر پیانگ یانگ پر سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

دوسری جانب پیانگ یانگ نے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر مشقوں اور دفاعی تیاریوں کے ساتھ شمالی کوریا کو دھمکی دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

حالیہ تجربوں پر واشنگٹن کی جانب سے نسبتاً خاموش ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے، جس کی توجہ یوکرین کی جنگ کے ساتھ ساتھ دیگر ملکی اور غیر ملکی بحرانوں پر مرکوز ہے لیکن امریکی فوج نے خطے میں طاقت کے مظاہرے کو بڑھا دیا ہے۔

اس حوالے سے ایک بیان میں ٹوکیو نے کہا کہ اس نے میزائل کو مار گرانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

وزیر دفاع یاسوکازو ہمادا نے کہا کہ جاپان جوابی حملہ کرنے کی صلاحیتوں سمیت کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کرے گا کیونکہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے بار بار میزائل داغنے کے بعد اپنے دفاع کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

جنوبی کوریا نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی فوج کو فروغ دے گا اور اتحادی تعاون میں اضافہ کرے گا۔

امریکا نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے جاپان پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغنے کے ’خطرناک اور لاپرواہ‘ فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ٹوکیو اور سیئول کے حکام نے بتایا کہ میزائل نے 45 سے 46 سو کلومیٹر (2,850 میل) کی زیادہ سے زیادہ بلندی تک تقریباً ایک کلومیٹر تک پرواز کی۔

جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے رپورٹ کیا کہ ٹیسٹ نے مشرقی جاپان ریلوے کمپنی (9020.T) کو شمالی علاقوں میں ٹرین آپریشن معطل کرنے پر مجبور کیا۔

پرواز کی ابتدائی تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ یہ میزائل ہواسونگ12-آئی آر بی ایم ہو سکتا ہے، جسے شمالی کوریا 2017 میں گوام میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے کے اپنے دھمکی آمیز منصوبے کے طور پر منظر عام پر لایا تھا۔

ہواسونگ12کو 2017 کے تجربے میں استعمال کیا گیا تھا جس نے جاپان کو زیر کر دیا تھا اور ماہرین نے نوٹ کیا کہ اسے جنوری میں صوبہ جاگانگ سے بھی ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

منبع: ڈان نیوز

The post شمالی کوریا کا طویل ترین فاصلے کے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے