English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات پر نظر ثانی کی جائے: بائیڈن

القمر

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ تیل پیداوار میں کمی کے فیصلے پر امریکی صدر بائیڈن کا ماننا ہے کہ امریکہ کو سعودی عرب سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس جان کربی کے مطابق، امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ سعودی تعلقات امریکی قومی مفاد میں ہونے کو یقینی بنایا جائے۔

جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن امریکی۔ سعودیہ تعلقات پر نظرثانی کرنا چاہتے ہیں، صدر بائیڈن کا ماننا ہے کہ تیل پیداوار میں کمی کے فیصلے کے بعد سعودی عرب سے تعلقات پر نظرثانی ہونی چاہیے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس نے عالمی معیشت اور تیل منڈی کی غیر یقینی صورتِ حال پر نومبر سے تیل پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

 امریکہ نے اوپیک پلس کے فیصلے کی مخالفت اور اس پر تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ تیل پیداوار میں کمی سے روس کو فائدہ ہوگا۔

 دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اوپیک پلس ممالک نے ذمہ داری سے کام کیا اور مناسب فیصلہ کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ "اوپیک پلس ممالک منڈیوں کو مستحکم کرنے اور تیل پیدہ کرنے والے ممالک اور صارفین کے مفادات کے حصول کی کوشش کرتے ہیں

 انہوں نے وضاحت کی کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اسٹریٹجک ہیں اور خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد پرقائم ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے   بتایا کہ  ریاض اور واشنگٹن کے درمیان فوجی تعاون دونوں ممالک کے مفادات کے لیے جاری ہے اور اس نے خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ادارہ جاتی ہیں جب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے