ایوان صدر کے ترجمان ابراہیم قالن نے 24 فروری کو شروع ہو نےو الی روس۔ یوکیرین جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسوقت سامنے آنے والے الحاق اور بعد میں تیزی آنے والے پر تشدد واقعات کے باوجود ہم ڈپلومیسی کے دروازے کھلے رکھے جانے کی سوچ رکھتے ہیں۔
ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کی براہ راست نشریات کے مہمان بننے والے ابراہیم قالن نے ایک سوال کہ کیا صدر رجب طیب ایردوان آستانہ میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے؟ کے جواب میں کہا کہ ہمارے صدر کل پوتن سے ملاقات کریں گے۔
کیا استنبول میں پوتن اور یوکیرینی صدر ولا دیمر زیلنسکی کو یکجا کرنے کے حوالے سے آستانہ میں بات چیت ہو گی سوال کے جواب میں قالن نے کہا کہ "حالیہ پر تشدد واقعات اور روس کے الحاق کے باوجود ہم تا حال ڈپلومیسی کی راہوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اس ضمن میں دونوں طرفین کو تجاویز پیش کر رہے ہیں۔ "
روس۔ یوکیرین جنگ کے دو پہلو پائے جانے کا ذکر کرنے والے جناب قالن نے کہا کہ "پہلی جہت یوکیرینی سر زمین پر قبضہ جمانا اور الحاق کرنا ہے۔ اس چیز کا خاتمہ کرنا اور جھڑپوں کا سد باب کرنا لازمی ہے، اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں پایا جاتا، اس چیز کا حل مزید جنگ نہیں، بلکہ سفارتکاری اور مذاکرات ہے۔ "
انہوں نے بتایا کہ دوسری جہت کہیں زیادہ وسیع جیوپولیٹکل حیثیت رکھتی ہے ، جو کہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان ایک مخصوص کشمکش اور آمنے سامنے آنے سے تعلق رکھتی ہے۔
