اسلام آباد: وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ بجلی کی ترسیل کا نظام پورے ملک میں مکمل بحال کر دیا گیا ہے جبکہ حقیت یہ ہے کہ کراچی کے اکثر علاقوں میں بجلی کچھ دیر کے لیے بحال کی گئی تھی لیکن اب بھی آدھے سے زیادہ شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ آج صبح کراچی کے جنوب میں 5 سو کے-وی کی دو لائنوں میں آنے والے خلل کو دور کر دیا گیا ہے، لیکن کراچی میں سوسائٹیز سمیت دیگر علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہوئی ہے، صائمہ عربین ولازسوسائٹی ، سرجانی، ملیر ، اورنگی ٹاؤن، شادمان ٹاؤن، لانڈھی ، کورنگی اور ملیر سمیت دیگر علاقوں میں ابھی تک بجلی بحال نہیں ہوسکی ہے۔
اس حوالے سے عوام کا کہنا تھا کہ آج کے بریک ڈاؤن نے ثابت کیا ہے کہ کے الیکٹرک صرف صارفین سے پیسے بٹورنا جانتی ہے ، ایک روپے کی بھی بجلی نہیں بنارہی ہے، مین گرڈ سے سستی بجلی لے کر کراچی کے مظلوم شہریوں کو چند گھنٹوں کے لیے بجلی فراہم کررہاہے۔
شہریوں کا کہناتھا کہ حکومت اور چیف جسٹس کو چاہیے کہ ایسے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کیا جائے اور شہریوں کوسستی بجلی فراہم کرنے کیلیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
