صدر رجب طیب ایردوان نے سیکا اجلاس کے تحت آستانہ میں روسی صدر ولا دیمیر پوتین سے ملاقات کی ہے۔
قصر آزادی کے ایک بند کمرے میں ہوئی ملاقات کے بعد دونوں صدور نے مختصر بیان دیئے ۔
صدر ایردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ اق قویو کا پہلا ٹربائن اگلے سال کے وسط تک کام شروع کر دے گا، اور اگر ترک ضلع سنوپ میں اگر جوہری ری ایکٹر کے سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوئی تو یہ ہمارے لیے کافی اہم ہوگی ۔
صدر نے کہا کہ استنبول معاہدے پر عمل درآمد برقرار رہے گا،روسی اناج اور کھاد کی براستہ ترکیہ کم ترقی یافتہ ممالک کو برآمد بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ترکیہ اور روس کے اس سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات سے بعض حلقے ضرور متذبذب ہونگے البتہ کم ترقی یافتہ ممالک میں خوشی کی لہر دوڑے گی ۔
روسی صدر نے بھی کہا کہ یورپ کو گیس کی ترسیل کے لیے ترکیہ ایک اہم مرکز بن سکتا ہے جو کہ ایک محفوظ گزر گاہ ہوگی،اناج کی محض جزوی قسم غریب ممالک کو جا رہی ہے ،استنبول معاہدے کے تحت یوکرینی اناج حاصل کرنے والے ممالک کو ترکیہ کا مشکور ہونا چاہیئے۔
