کراچی کے ضلع ملیر میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دوسو سینتیس میں کنٹونمنٹ بورڈ فیصل ، ملیر کینٹ ، ایئرپورٹ اور ابراہیم حیدری کاکچھ علاقہ شامل ہے۔دوہزار اٹھارہ میں ہونے والی حلقہ بندی کے مطابق این اے دو سو ستاون اور این اے دوسو اٹھاون کے علاقوں پر مشتمل ہے۔اس حلقے میں اب ملیر کینٹ ، کنٹونمنٹ بورڈ فیصل ، سعدی ٹاؤن ، غازی گوٹھ ، ایئرپورٹ ، ماڈل کالونی کے علاقے شامل ہیں ۔کھوکھرا پار اور ابراہم حیدری کا کچھ علاقہ بھی اس حلقے کی حدود میں آتا ہے ۔حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ چورانے ہزار چھ سو ننانوے ہے ۔ مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ پینسٹھ ہزار نو سو تیرہ اور خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سات سو چھیاسی ہے۔الیکشن کمیشن سندھ نے حلقے میں ووٹنگ کے لئے ایک سو چورانوے پولنگ اسٹیشنز قائم کیئے ہیں۔۔اس حلقے کی انتخابی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دوہزار، دو کے عام انتخابات میں این اے دو سو ستاون سے ایم کیو ایم کے امیدوار محمد شمیم صدیقی جبکہ این اے دوسو اٹھاون سے پیپلز پارٹی کے شیر محمد بلوچ منتخب ہوئے تھے۔سن دوہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں این اے دو سو ستاون سے ایم کیو ایم کے امیدوار ساجد احمد اور این اے دوسو اٹھاون سے شیر محمد بلوچ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر دوبارہ کامیاب قرار پائے۔دوہزار تیرہ کے انتخابی دنگل میں این اے دو سو ستاون سے ایم کیو ایم کے امیدوار ساجد احمد ایک بار پھر کامیاب ہوئے جبکہ این اے دوسو اٹھاون سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر عبدالحکیم بلوچ منتخب ہوئے ۔دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار جمیل احمد خان کامیاب ہوئے اور اب ان کے استعفیٰ دیئے جانے کے بعد اس نشست پر ضمنی انتخاب ہو رہا ہے ۔این اے دوسو سینتیس میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 15 امیدوار مد مقابل ہیں ۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالحکیم بلوچ کے درمیان مقابلہ متوقع ہے ۔ایم کیو ایم، جمعت علمائے اسلام نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
این اے 237میں کون جیتے گا؟
القمر
