کراچی ضلع کورنگی میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے دوسو انتالیس گنجان آباد علاقوں پر مشتمل ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کی حلقہ بندی کے بعد این اے دو سو انتالیس میں این اے دوسو پچپن اور این اے دوسو چھپن کے علاقوں کو شامل کیا گیا ہے ۔ اب اس حلقے میں شاہ فیصل کالونی ، رفاہ عام ، جعفر طیار سوسائٹی ، شمسی کالونی ، اور کنٹومنٹ بورڈ فیصل کے کچھ علاقے شامل ہیں۔دو ہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات میں ان حلقوں سے مہاجر قومی موومنٹ اور ایم کیو ایم کے امیدوار منتخب ہوئے ۔دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ان حلقوں سے ایم کیو ایم کے امیدواروں نے کامیابی سمیٹی ۔دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ان حلقوں کے ووٹرز نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کے امیدواروں کو منتخب کیا۔دو ہزار اٹھارہ میں نئی حلقہ بندی کے تحت ہونے والے عام انتخابات میں اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار اکرم چیمہ صرف ساڑھے تین سو ووٹ کی برتری سے کامیاب ہوئے ۔۔ اکرم چیمہ نے انہتر ہزار ایک سو اکسٹھ ووٹ حاصل کیئے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے ایم کیو ایم کے امیدوار خواجہ سہیل منصور اڑسٹھ ہزار آٹھ سو گیارہ ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔اکرم چیمہ کی جانب سے استعفیٰ دیئے جانے کے بعد اب حلقے میں ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں ، جس میں پانچ لاکھ انتیس ہزار آٹھ سو پچپن رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔ ووٹرز میں دو لاکھ چورانوے ہزار، تین سو پچاسی مرد اور دو لاکھ، پینتیس ہزار، چار سو ستر خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقہ میں 330 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔
این اے239میں شامل اکثرعلاقوں کی سڑکیں مکمل یا پھرجزوی طورپرٹوٹ پھوٹ کاشکارہیں۔ یہاں کچھ کچےعلاقےاورگوٹھ بھی قائم ہیں۔ جہاں سڑکوں اورسیوریج کانظام انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے۔ جگہ جگہ بہتا گندہ پانی اورگٹرکی نشاندہی کیلئےلگائی گئی کرسیاں اورڈنڈےعلاقےکی حالت بیان کررہےہیں۔ حلقہ میں بجلی کی کئی گھنٹوں تک آنکھ مچولی معمول کی بات ہے گیس کی بلاتعطل ترسیل سردی میں توچھوڑئیے گرمیوں میں بھی دستیاب نہیں۔ووٹرز کہتےہیں کہ اس بار انتخابات میں ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کرہی کریں گے۔
کراچی کےحلقہ این اے 239 کے مسائل الیکشن سے حل ہوں گے؟
القمر
