زرعی ملک ہونے کے باوجود کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں فوڈ مصنوعات کی درآمدات15فیصد بڑھ گئیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر فوڈ مصنوعات کی درآمدات2ارب79کروڑڈالرز پر پہنچ گئیں۔ گذشتہ سال اسی عرصے میں فوڈامپورٹس2ارب41 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز تھیں۔ جولائی تا ستمبر گندم کی درآمدات میں311 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں گندم کی درآمدات کا حجم 40 کروڑ 70لاکھ ڈالرز رہا۔
گذشتہ سال اسی عرصے میں گندم کی امپورٹس 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تھیں۔ جولائی تا ستمبر کوکنگ آئل کی امپورٹس میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔
کوکنگ آئل کی درآمدات 3 ماہ میں ایک ارب 24 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز رہیں ۔ جولائی تا ستمبر تمباکو کی درآمدات میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں سبزیوں,پھل اور دالوں کی درآمدات 8 فیصد بڑھیں۔ جولائی تا ستمبرچینی 98 اور چائے,کافی کی امپورٹس 9 فیصد کم ہوئیں۔
ایک وقت تھا جب پاکستان سے کھانے پینے کی اشیا بڑے پیمانے پر برآمد کی جاتی تھیں لیکن حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور زرعی زمینوں پر ہاوسنگ سوسائٹیز بنانے کی وجہ سے ملک میں خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
خبروالے نے پہلے بھی اہم مسئلہ پر آواز اٹھائی لیکن متعلقہ حکام اور اداروں کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں سبزیاں اور گوشت سے لے کر ہر شے مہنگی ہوچکی ہیں۔
زرعی ملک میں خوراک کی درآمدات تشویش ناک حد تک بڑھ گئیں
القمر
