لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے امریکی صدر بائیڈن کے پاکستان نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں غیرذمہ دارانہ، ملک دشمن اور تعصب پر مبنی جانبدارانہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی کا دوست نہیں. امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے ممالک اور قیادتوں کو استعمال کرتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاکستان سیاسی، اقتصادی اور خارجہ محاذ پر بڑے خطرات میں گھرا ہوا ہے لیکن قومی قیادت اور ریاستی ادارے باہم دست و گریباں ہیں، عمران خان اپنی حکومت نہ بچاسکے اور اتحادی حکومت کی امریکہ کے سامنے چاپلوسی بھی کام نہ آئی. حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف کو امریکی دفاع کے سیٹ اپ نے بڑا پروٹوکول دیا. لیکن صدر بائیڈن کا مؤقف کسی اور خطرہ کی نشاندہی ہے۔
انہوں نے کہا خارجہ سفارتی محاذ پر ٹہرکی بازی، بزدلی اور چاپلوسی نہیں اصولی جراتمندانہ قومی اور تمام سٹیک ہولڈر کا مشترکہ قومی مؤقف ہی ملکی سلامتی کا ضامن بن سکتا ہے. سیاست، خارجہ محاذ پر قومی قیادت کا غیرذمہ دارانہ رویہ قومی سلامتی کے لیے بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستانی عوام قومی سلامتی اور ایٹمی صلاحیت کے دفاع کے لیے ہر دشمن قوت کا مقابلہ کرے گی. امریکہ افغانستان میں طویل جارحیت کے باوجود شکست کھاگیا.، اس کا پاکستان مخالف رویہ اسے خطے سے بے دخل کردے گا. پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اقتصادی اور سیاسی ہے۔
لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ضمنی الیکشن سیاسی بحرانوں کا حل نہیں بلکہ مزید عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے. سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کے حل کے لیے قومی قیادت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا. قومی ڈائیلاگ، قومی ترجیحات، شفاف غیرجانبدارانہ انتخابات پر تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر آئیں. آئین سے ماورا کوئی بھی اقدام، کوئی سیٹ اپ ملک و ملت کو مزید پستی کی طرف دھکیل دے گا. جماعت اسلامی قومی وحدت کی حفاظت اور بحرانوں کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرے گی۔
