کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ 23اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا واضح اور دو ٹوک اعلان کرے ، فوج اور رینجرز کو بھی واضح طور پر بلائے اور کراچی کے ہر پولنگ اسٹیشن پر تعینات کرے کیونکہ کراچی کے تمام پولنگ اسٹیشن حساس ہیں کوئی زیادہ حساس اور کوئی کم حساس ہے۔
ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت اختیار حاصل ہے کہ وہ اداروں کے لوگوں کو طلب کر سکتا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر یہ بھی واضح کریں کہ کیا فوج اور رینجرز ان کے طلب کرنے پر الیکشن کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر تیار نہیں ؟
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ،سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے التواء کی بار بار دی جانے والی درخواستوںاور اس کے غیر جمہوری اور غیر قانونی رویے کا نوٹس لے۔سندھ حکومت کی کروڑوں روپے کی اشتہاری مہم کا بھی نوٹس لے اور اسے بند کروائے کیونکہ یہ انتخابی ضابطے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ، تمام بلدیاتی امیدواران ، مردو خواتین کارکنان و ذمہ داران عزم و ہمت اور بلند حوصلے اور پوری یکسوئی کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں ۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے حق میں ماحول بنا ہوا ہے ، 23اکتوبر کو تاریخی کامیابی ضرور ملے گی جس کا اثر پورے ملک پر ہو گا اور جماعت اسلامی ایک موثر سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئے گی ۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لیے سندھ حکومت روز الیکشن کمیشن کو خط لکھ رہی ہے ، ان کے وزراء کراچی کے مسائل کی ذمہ داری کراچی کے عوام پر ڈال رہے ہیں اور الزام لگا رہے ہیں کہ یہاں کے لوگ خود مسائل پیدا کرتے ہیں اور پھر ان کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں کہ کراچی میں جن لوگوں کی حکومت رہی ہے اور یہاں کے عوام جن سنگین مسائل سے دوچار ہیں ان کی ذمہ داری جن جن پر عائد ہو گی ہم ان کو بے نقاب کر تے رہیں گے جو 14سال سے حکومت کر رہے ہیں اور جو یہاں سے مینڈیٹ لے کر ہر حکومت کے ساتھ شریک اقتدار رہے ہیں اور جن کی حکومت ساڑھے تین سال رہی ہے ہم تو یہ ہی کہیں گے کہ یہ سب اپنے اپنے دور کے ذمہ دار ہیں اور ان کی نا اہلی کے باعث ہی شہر کی آج یہ ابتر حالت ہو گئی ہے ۔
